Surah At Taubah Ayat 92 (9:92)
The Repentance · Juz 10 · Madani
وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ۪ - تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَﭤ 92
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور نہ ان پر کوئی حرج ہے جوآپ کے پاس اس لئے آتے ہیں تاکہ آپ انہیں سواری دیدیں (لیکن آپ) فرما دیتے ہیں: میں تمہارے لئے کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس پر تمہیں سوار کردوں تو وہ اس حال میں لوٹ جاتے ہیں کہ ان کی آنکھوں سے اس غم میں آنسو بہہ رہے ہوں کہ وہ خرچ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور نہ ان پر جو تمہارے حضور حاضر ہوں کہ تم انہیں سواری عطا فرماؤ تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں اس پر یوں واپس جائیں کہ ان کی آنکھوں سے آنسو اُبلتے ہوں اس غم سے کہ خرچ کا مقدور نہ پایا۔
Tafseer (Urdu)
{و لا على الذین:اور نہ ان پر کوئی حرج ہے۔} شان نزول: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’ ’سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے لوگوں کو اپنے ساتھ جہاد میں جانے کا حکم دیا تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ایک جماعت اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی ان میں حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے انہوں نے عرض کی! یا رسول اللہ !صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمیں کوئی سواری عطا کیجئے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان سے فرمایا ’’اللہ کی قسم ! میرے پاس کوئی سواری نہیں کہ جس پر میں تمہیں سوار کروں۔ وہ روتے ہوئے واپس چلے گئے کیونکہ جہاد سے رہ جانا ان پر بہت گراں تھا اور ان کے پاس زاد راہ تھا نہ سواری۔ اللہ تعالی نے ان کی اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے محبت اور جہاد پر حرص کی وجہ سے ان کے عذر میں یہ ایتیں بیان فرمائیں۔ (تفسیر ابن ابی حاتم التوبۃ تحت الایۃ: ۹۲ ۶ / ۱۸۶۳-۱۸۶۴) صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا جذبہ جہاد: اس ایت مبارکہ اور اس کے شان نزول کے واقعہ سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے جذبہ جہاد شوق عبادت اور ذوق اطاعت کاپتہ چلتا ہے کہ ایک طرف تو منافقین ہیں جو قدرت ہونے کے باوجود جھوٹے حیلے بہانے کرکے جہاد سے جان چھڑاتے ہیں اور ایک طرف یہ کامل الایمان مخلص غلام ہیں جو شرعا رخصت و اجازت ہونے کے باوجود جہاد نہ کرسکنے اور اس عبادت میں شریک نہ ہوسکنے کے غم میں انسو بہارہے ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں بھی ایسا ذوق و شوق عطا فرمائے۔ {انما السبیل على الذین:مواخذہ تو ان لوگوں پر ہے۔} یعنی مواخذہ تو ان لوگوں پر ہے جو جہاد میں جانے کی قدرت رکھتے ہیں اس کے باوجود اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے رخصت مانگتے ہیں۔ (مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۹۳ ص۴۵۰)