Surah At Taubah Ayat 95 (9:95)
The Repentance · Juz 11 · Madani
سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْؕ-فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْؕ-اِنَّهُمْ رِجْسٌ٘-وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ 95
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاب جب تم ان کی طرف لوٹ کر جاؤ گے تو یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو تو تم ان سے اعراض ہی کرو۔ یہ ناپاک ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاب تمہارے آگے اللہ کی قسم کھائیں گے جب تم ان کی طرف پلٹ کر جاؤ گے اس لیے کہ تم ان کے خیال میں نہ پڑو تو ہاں تم ان کا خیال چھوڑو وہ تو نرے پلید ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے بدلہ اس کا جو کماتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{سیحلفون بالله لكم: اب تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جب اپ اپنے اس سفر سے واپس ہو کر مدینہ طیبہ میں غزوے میں شرکت نہ کرنے والے منافقین کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو یہ اپ کے سامنے اللہ عزوجل کی قسمیں کھائیں گے تاکہ اپ ان سے درگزر کریں اور پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ان پر ملامت و عتاب نہ کریں۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۹۵ ۲ / ۲۷۳) اس سے معلوم ہوا کہ منافق و گمراہ زیادہ قسمیں کھا کر اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔ الحمدللہ عزوجل! مومنوں کو اس کی ضرورت نہیں پڑتی۔ {فاعرضوا عنهم:تو تم ان سے اعراض ہی کرو۔} بعض مفسرین نے فرمایا :’’اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھنا اور ان سے بولنا ترک کردو۔ چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ منافقین کے پاس بیٹھیں نہ ان سے بات کریں کیونکہ ان کے باطن خبیث اور اعمال برے ہیں اور ملامت و عتاب سے ان کی اصلاح نہ ہوگی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ناپاک ہیں اور ان کے پاک ہونے کا کوئی طریقہ نہیں اخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ ان کے دنیا میں کیے ہوئے خبیث اعمال کا بدلہ ہے۔ شان نزول: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں کہ یہ آیت جد بن قیس معتب بن قشیر اور ان دونوں کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ 80 منافق تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے پاس بیٹھو نہ ان سے کلام کرو۔ مقاتل نے کہا کہ یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی اس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے قسم کھائی تھی کہ اب کبھی وہ جہاد میں جانے سے سستی نہ کرے گا اور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اس سے راضی ہوجائیں اس پر یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۹۵ ۲ / ۲۷۳ مدارک التوبۃ تحت الایۃ: ۹۵ ص۴۵۰ ملتقطا)