Surah At Taubah Ayat 98 (9:98)
The Repentance · Juz 11 · Madani
وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآىٕرَؕ-عَلَیْهِمْ دَآىٕرَةُ السَّوْءِؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ 98
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کچھ دیہاتی وہ ہیں کہ وہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تم پر گردشیں آنے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ بری گردش انہی پر ہے اور اللہ سننے والا جاننے والاہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کچھ گنوار وہ ہیں کہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کریں اسے تاوان سمجھیں اور تم پر گردشیں آنے کے انتظار میں رہیں انہیں پر ہے بری گردش اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و من الاعراب:اور کچھ دیہاتی۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ دیہاتی ایسے ہیں کہ اللہ عزوجل کی راہ میں جو خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں کیونکہ وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں رضائے الہی اور طلب ثواب کے لئے تو کرتے نہیں بلکہ ریا کاری کے طور پر اور مسلمانوں کے خوف سے خرچ کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں پر گردشیں آنے کے انتظار میں رہتے ہیں اور یہ راہ دیکھتے ہیں کہ کب مسلمانوں کا زور کم ہو اور کب وہ مغلوب ہوں انہیں خبر نہیں کہ اللہ عزوجل کو کیا منظورہے وہ اللہ تعالی نے بتا دیا کہ بری گردش انہی پر ہے اور وہی رنج و بلا اور بدحالی میں گرفتار ہوں گے۔ شان نزول: یہ آیت قبیلہ اسد غطفان ا ور تمیم کے دیہاتیوں کے بارے میں نازل ہوئی پھر اللہ تعالی نے ان میں سے جن کو علیحدہ کیا ان کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ (خازن التوبۃ تحت الایۃ: ۹۸ ۲ / ۲۷۴) منافقت کی علامات: اس ایت میں منافقت کی مزید دو علامتیں بیان کی گئی ہیں ایک تو یہ کہ وہ راہ خدا میں خرچ کرنے کو ٹیکس اور تاوان کی طرح سمجھتے ہیں اس لئے کبھی خوشدلی سے خرچ نہیں کرتے اور دوسری یہ کہ مسلمانوں کے نقصان کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ قران مجید کی ایات ہماری اصلاح کیلئے نازل ہوئی ہیں ا س لئے ہمیں بھی اپنے حال پر غور کرنا چاہیے کیونکہ اج ہمارے معاشرے میں بھی ایسے لوگ ہیں جو راہ خدا میں خرچ کرنے کو اپنے عمل سے ٹیکس کی طرح سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کے نقصان کے خواہشمند رہتے ہیں۔