Surah Al Balad Ayat 5 (90:5)
The City · Juz 30 · Makki
اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌﭥ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{ایحسب ان لن یقدر علیه احد: کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہرگز اس پر کوئی قدرت نہیں پائے گا۔} ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ابوالاشد اسید بن کلدہ کے بار ے میں نازل ہوئی یہ انتہائی مضبوط اورطاقتور شخص تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ چمڑہ پائوں کے نیچے دبالیتا اور اعلا ن کرتا کہ کون ا س چمڑے کو میرے پاوں کے نیچے سے نکالے گا چنانچہ دس دس آدمی اس چمڑے کو کھینچتے رہتے یہاں تک کہ وہ چمڑہ تو پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا لیکن جتنا اس کے پائوں کے نیچے ہوتا وہ ہر گزنہ نکل سکتا تھا اور ایک یہ قول ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی اور ایت کے معنی یہ ہیں کہ یہ کافر اپنی قوت پرغرور کرتا اور مسلمانوں کو کمزور سمجھتا ہے یہ کس گمان میں پڑا ہوا ہے اور یہ اللہ تعالی کی قدرت کو نہیں جانتا جو کہ قادر برحق ہے۔( ابو سعود البلد تحت الایۃ: ۵ ۵ / ۸۷۳ مدارک البلد تحت الایۃ: ۵ ص۱۳۴۹ ملتقطا) {یقول اهلكت مالا لبدا: کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال ختم کردیا۔} یہاں سے اس کافر کا قول ذکر کیا گیا چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ کافر کہتا ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی عداوت اور دشمنی میں (لوگوں کو دیدے کر) ڈھیروں مال ختم کردیا (تاکہ وہ لوگ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کو تکلیف پہنچائیں ۔) کیااس کافرکا یہ گمان ہے کہ اسے اللہ تعالی نے نہیں دیکھا اور اللہ تعالی اس سے سوال نہیں کرے گا کہ اس نے یہ مال کہاں سے حاصل کیا اور کس کام پر خرچ کیاایسا ہر گز نہیں اللہ تعالی ا س کی خبیث نیت اور باطنی فساد سے باخبر ہے اور وہ اسے اس کی سزا دے گا۔( خازن البلد تحت الایۃ: ۶-۷ ۴ / ۳۸۰ روح البیان البلد تحت الایۃ: ۶-۷ ۱۰ / ۴۳۵ ملتقطا) بری نیت سے اور بری جگہ پر مال خرچ کرنے کا انجام: اس سے معلوم ہو ا کہ بری نیت سے اور بری جگہ پر مال خرچ کرنے کا انجام بہت سخت ہےاس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو رشوت کے ذریعے دنیا کا عہدہ اور منصب حاصل کرنے لئے اور شادی کی ناجائز رسموں کو پورا کرنے کے لئے بے تحاشہ مال خرچ کرتے ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی درس حاصل کریں کہ جو ظاہری طور پر تو نیک کاموں میں اپنا مال خرچ کر رہے ہیں لیکن ان کی نیت یہ ہے کہ ا س عمل سے لوگ ان کی واہ واہ کریں اورلوگوں میں ان کی نیک نامی مشہور ہو۔ایسے لوگوں کے لئے درج ذیل دو احادیث میں بھی بڑی عبرت ہےچنانچہ (1)…حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’قیامت کے دن انسان اپنے رب کی بارگاہ سے اس وقت تک قدم نہ ہٹا سکے گا جب تک اس سے ان پانچ چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے(1)اس کی زندگی کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں گزارا۔ (2)اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کن کاموں میں صرف کیا۔(34)اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے مال کمایا اور کہاں پر خرچ کیا۔(5) اس کے علم کے بارے میں کہ ا س نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا۔( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع باب فی القیامۃ ۴ / ۱۸۸ الحدیث: ۲۴۲۴) (2)…حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے دکھاوے کے لئے روزہ رکھا تو اس نے شرک کیاجس نے دکھاوے کے لئے نماز پڑھی تو اس نے شرک کیا اور جس نے ریا کاری کرتے ہوئے صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔( شعب الایمان الخامس والاربعون من شعب الایمان... الخ ۵ / ۳۳۷ الحدیث: ۶۸۴۴) اللہ تعالی ایسے لوگوں کے حال پر رحم فرمائے اور انہیں اپنی بگڑی عادتیں اور خراب حالات درست کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔