Surah Ash Shams Ayat 11 (91:11)
The Sun · Juz 30 · Makki
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَاﭪ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariقومِ ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا ۔
Tafseer (Urdu)
{كذبت ثمود بطغوىها: قوم ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا۔} اس سے پہلی ایات میں کئی قسموں سے اطاعت گزار کی کامیابی اور نافرمان کی ناکامی کو بیان کیا گیااب یہاں اللہ تعالی نے اپنے ایک رسول اور ان کی نافرمانی کرنے والوں کا حال بیان کیا ہے تاکہ کفار مکہ پر واضح ہو جائے کہ جس طرح حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے ان کی قوم ہلاک کر دی گئی تو اسی طرح رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے انہیں بھی ہلاک کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی 4 ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ قوم ثمود نے اپنی سرکشی سے اپنے رسول حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کو اس وقت جھٹلایا جب ان کا سب سے بڑابدبخت ادمی قدار بن سالف ان سب کی مرضی سے اونٹنی کی کو چیں کاٹنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا تو اللہ تعالی کے رسول حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا :تم اللہ تعالی کی اونٹنی کے درپے ہونے سے بچو اور جو دن اس کے لئے پانی پینے کا مقرر ہے اس دن پانی نہ لو تاکہ تم پر عذاب نہ آئے۔تو انہوں نے حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلایا پھر اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو ان پر ان کے رب عزوجل نے ان کے اس گناہ کے سبب تباہی ڈال کر اور ان کی بستی کو برابر کرکے سب کو ہلاک کردیا اوران میں سے کوئی باقی نہ بچا اور اللہ تعالی کو ان کے پیچھا کرنے کا خوف نہیں جیسا بادشاہوں کو ہوتا ہے کیونکہ وہ سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے وہ جو چاہے کرے اور کسی کو ا س کے اگے دم مارنے کی مجال نہیں ۔ (صاوی الشمس تحت الایۃ : ۱۱-۱۵ ۶ / ۲۳۷۰-۲۳۷۱ ابو سعود الشمس تحت الایۃ: ۱۱-۱۵ ۵ / ۸۷۵- ۸۷۶ خازن الشمس تحت الایۃ: ۱۱-۱۵ ۴ / ۳۸۲-۳۸۳ ملتقطا) {و لا یخاف عقبها: اور اسے ان کے پیچھا کرنے کا خوف نہیں ۔} بعض مفسرین نے اس ایت کے معنی یہ بھی بیا ن کئے ہیں کہ حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام کو ان میں سے کسی کا خوف نہیں کہ عذاب نازل ہونے کے بعد وہ انہیں ایذا پہنچاسکے۔ (خازن الشمس تحت الایۃ: ۱۵ ۴ / ۳۸۳)