Surah Al Lail Ayat 17 (92:17)
The Night · Juz 30 · Makki
وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورعنقریب سب سے بڑے پرہیزگارکو اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بہت جلداس سے دُور رکھا جائے گا جو سب سے بڑاپرہیزگار ۔
Tafseer (Urdu)
{و سیجنبها الاتقى: اور عنقریب سب سے بڑے پرہیزگارکو اس اگ سے دور رکھا جائے گا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اور سب سے بڑے پرہیزگارکو اس بھڑکتی اگ سے دور رکھا جائے گا اور سب سے بڑا پرہیز گار وہ ہے جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنا مال ریا کاری اور نمائش کے طور پر خرچ نہیں کرتا بلکہ اس لئے خرچ ہے تاکہ اسے اللہ تعالی کی بار گاہ میں پاکیزگی ملے ۔( مدارک اللیل تحت الایۃ: ۱۷-۱۸ ص۱۳۵۵) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے فضائل: امام علی بن محمد خازن رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’تما م مفسرین کے نزدیک اس ایت میں سب سے بڑے پرہیزگار سے مراد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔ (خازن واللیل تحت الایۃ: ۱۹ ۴ / ۳۸۴) اس سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے 6 فضائل معلوم ہوئے (1)…دنیا میں ان سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو گا۔ (2)… انہیں جہنم سے بہت دور رکھا جائے گا۔ (3)… جہنم سے دور رکھے جانے میں ان کے لئے جنتی ہونے کی بشارت ہے۔ (4)…سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی امت میں سب سے بڑے متقی اور پرہیز گار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ۔ (5)…حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے تمام صدقات و خیرات قبول ہیں ۔ (6)…حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے ہر صدقے میں اعلی درجے کا اخلاص ہے جس کی گواہی رب تعالی دے رہا ہے۔ نوٹ:حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی افضلیت سے متعلق اہم معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاوی رضویہ کی اٹھائیسویں جلد میں موجود اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہرحمۃ الرحمن کے رسالہ ’’الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی‘‘(حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی افضلیت کا بیان) کامطالعہ فرمائیں ۔