Surah Alam Nashrah Ayat 1 (94:1)
The Relief · Juz 30 · Makki
اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کشادہ نہ کردیا ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا ہم نے تمہارے لئے سینہ کشادہ نہ کیا ۔
Tafseer (Urdu)
{الم نشرح لك صدرك: کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کشادہ نہ کر دیا } اس سورت کا شان نزول یہ ہے کہ ایک روز سرور عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے بارگاہ الہی عزوجل میں عرض کی:اے اللہ ! عزوجل تو نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنا خلیل ہونے کا شرف عطا فرمایاحضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے ساتھ کلام کرنے سے سرفراز کیاحضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کو بلند مکان جنت تک رسائی دیپہاڑوں اور لوہے کو حضرت داود علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمانبردار کر دیاجناتانسان اور تمام حیوانات حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کے تابع کر دئیے تومجھے کس شرف اور کرامت سے خاص فرمایا ہےاس پر یہ سورت نازل ہوئی جس میں گویا کہ ارشاد فرمایا گیا ’’اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اگر ہم نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کواپنا خلیل بنایا ہے تو اپ کی خاطر ہم نے اپ کا سینہ علم و حکمت اور معرفت کے نور سے کھول دیا تاکہ مناجات کی لذتامت کا غماپنی بارگاہ میں حاضری کا ذوق اور اخرت کے گھر کا شوق اپ کے دل میں سما جائےاسمانی وحی کو اٹھانا اپ کے دل پر اسان ہو جائے اللہ تعالی کی طرف رغبت دینے کی تبلیغ کرنے پر انے والے مصائب کو برداشت کر سکے اور ان خوبیوں اور کرامتوں کی بدولت اپ کو وہ مقام حاصل ہو کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے خلیل ہونے کو اس سے کچھ نسبت نہ رہے اور اگر ہم نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے ساتھ ہم کلام ہونے کا شرف عطا کیا اور حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام کو بلند مکان تک رسائی عطا کی ہے تو اپ کو اس غم سے نجات دی جو اپ کی پشت پر بہت بھاری تھا اور اپ کو لامکاں میں بلا کر اپنے دیدار سے مشرف کیا یہاں تک کہ ہم میں اور اپ میں (ہماری شایان شان)دو کمانوں کے برابر بلکہ ا س سے بھی کم فاصلہ رہ گیا اور اسمانوں کی پوری سلطنت میں اپ کی قربت اور منزلت کا شہرہ ہو گیا۔اگر ہم نے حضرت داود اور حضرت سلیمان علیہما الصلوۃ والسلام کو دنیا کی چند چیزوں پر حکومت بخشی ہے تو اپ کو عالم علوی یعنی اسمانوں پر قدرت دی ہے کہ وہاں کے فرشتے خادموں کی طرح اپ کی بارگاہ میں حاضر رہتے ہیں اور اپ کے سپاہیوں کی طرح اپ کے دشمنوں سے لڑتے ہیں اور اسمانوں میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اپ کی نبوت و رسالت سے واقف نہ ہو اور اپ کے حکم سے انحراف کرے۔( روح البیان الم نشرح تحت الایۃ: ۱۱ ۱۰ / ۴۶۵ الکلام الاوضح فی تفسیر الم نشرح ص۱۴ ملتقطا) اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اصالت کل امامت کل سیادت کل امارت کل حکومت کل ولایت کل خدا کے یہاں تمہارے لئے فرشتے خدم رسول حشم تمام امم غلام کرم وجود و عدم حدوث و قدم جہاں میں عیاں تمہارے لئے یہ طور کجا سپہر تو کیا کہ عرش علا بھی دور رہا جہت سے ورا وصال ملا یہ رفعت شاں تمہارے لئے مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ اس ایت کی تفسیر میں لکھتے ہیں ’’یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم ہم نے اپ کی خاطر آپ کے سینہ اقدس کو ہدایت معرفتنصیحت نبوت اور علم وحکمت کے لئے کشادہ اور وسیع کر دیا یہاں تک کہ عالم غیب اور عالم شہادت اس کی وسعت میں سما گئے اور جسمانی تعلقات روحانی انوار کے لئے مانع نہ ہوسکے اور علوم لدنیہ حکم الہیہ معارف ربانیہ اور حقائق رحمانیہ اپ کے سینہ پاک میں جلوہ نما ہوئے۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس ایت میں ظاہری طور پر سینہ مبارک کا کھلنا مراد ہے ۔احادیث میں مذکور ہے کہ ظاہری طور پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے سینہ مبارک کا کھلنا بھی بار ہا ہوا جیسے عمر مبارک کی ابتداء میں سینہ اقدس کھلا نزول وحی کی ابتداء کے وقت اور شب معراج سینہ مبارک کھلا اور اس کی شکل یہ تھی کہ حضرت جبریل امین علیہ السلام نے سینہ پاک کو چاک کرکے قلب مبارک نکالا اور زریں طشت میں آب زمزم سے غسل دیا اور نور و حکمت سے بھر کر اس کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔(خزائن العرفان الم نشرح تحت الایۃ:۱ ص ۱۱۱۰ خازن الم نشرح تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۳۸۸ روح البیان الم نشرح تحت الایۃ:۱ ۱۰ / ۴۶۱-۴۶۲ ملتقطا) ایت ’’ الم نشرح لك صدرك‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)…دنیا کی حقارت اور اخرت کے کمال کے علم سے سینے کا کھل جانا اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے۔ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’فمن یرد الله ان یهدیه یشرح صدره للاسلام-و من یرد ان یضله یجعل صدره ضیقا حرجا كانما یصعد فی السمآء ‘‘(انعام:۱۲۵) ترجمہ کنزالعرفان: اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہتا ہے تو اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہ کرنا چاہتا ہے اس کا سینہ تنگ بہت ہی تنگ کردیتا ہے گویا کہ وہ زبردستی آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ اورحضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی: اس کھولنے سے کیا مراد ہےارشاد فرمایا:’’ اس سے مراد وہ نور ہے جو مومن کے دل میں ڈالا جاتا ہے جس سے اس کا دل کھل جاتا ہے۔عرض کی گئی: کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس سے اس کی پہچان ہو سکےارشاد فرمایا:’’ہاں (ا س کی تین علامتیں ہیں ) (1)اخرت کی طرف رغبت(2) دنیا سے نفرت اور(3) موت سے پہلے اخرت کی تیاری۔( مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الزہد ما ذکر عن نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فی الزہد ۸ / ۱۲۶ الحدیث: ۱۴) (2)… حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اللہ تعالی کے ایسے حبیب ہیں کہ اللہ تعالی نے بن مانگے ان کا مقدس سینہ ہدایت اور معرفت کے لئے کھول کر انہیں یہ نعمت عطا کر دی۔