Surah Al Qadr Ayat 1 (97:1)
The Power · Juz 30 · Makki
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِﭕ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہم نے اس قرآن کو شب ِقدر میں نازل کیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا ۔
Tafseer (Urdu)
{انا انزلنه فی لیلة القدر: بیشک ہم نے اس قران کو شب قدر میں نازل کیا۔} یعنی بے شک ہم نے اس قرآن مجید کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف یکبارگی شب قدر میں نازل کیا۔ شب قدر کے فضائل: شب قدر شرف و برکت والی رات ہے اس کو شب قدر اس لئے کہتے ہیں کہ اس شب میں سال بھر کے احکام نافذ کئے جاتے ہیں اور فرشتوں کو سال بھر کے کاموں اورخدمات پر مامور کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رات کی دیگر راتوں پر شرافت و قدر کے باعث اس کو شب قدر کہتے ہیں اور یہ بھی منقول ہے کہ چونکہ اس شب میں نیک اعمال مقبول ہوتے ہیں اور بارگاہ الہی میں ان کی قدر کی جاتی ہے اس لئے اس کو شب قدر کہتے ہیں ۔( خازن القدر تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۳۹۵) احادیث میں اس شب کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’ جس نے اس رات میں ایمان اور اخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی تو اللہ تعالی اس کے سابقہ (صغیرہ) گناہ بخش دیتا ہے ۔ (بخاری کتاب الایمان باب قیام لیلۃ القدر من الایمان ۱ / ۲۵ الحدیث: ۳۵) اورحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رمضان کا مہینہ ایا توحضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’بے شک تمہارے پاس یہ مہینہ ایا ہے اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جوشخص اس رات سے محروم رہ گیا وہ تمام نیکیوں سے محروم رہا اور محروم وہی رہے گا جس کی قسمت میں محرومی ہے۔( ابن ماجہ کتاب الصیام باب ما جاء فی فضل شہر رمضان ۲ / ۲۹۸ الحدیث: ۱۶۴۴) لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ یہ رات عبادت میں گزارے اور اس رات میں کثرت سے استغفار کرے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں :میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ لیلۃ القدر کون سی رات ہے تو ا س رات میں میں کیا کہوں ارشاد فرمایا: تم کہو ’’اللہم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنی‘‘اے اللہ!بے شک تو معاف فرمانے والاکرم کرنے والا ہےتو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے تو میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے۔( ترمذی کتاب الدعوات ۸۴-باب ۵ / ۳۰۶ الحدیث: ۳۵۲۴) نیزاپ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں : ’’اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ کونسی رات لیلۃ القدر ہے تو میں اس رات میں یہ دعا بکثرت مانگوں گی’’اے اللہ میں تجھ سے مغفرت اور عافیت کا سوال کرتی ہوں ۔( مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الدعاء الدعاء با العافیۃ ۷ / ۲۷ الحدیث: ۸) شب قدر سال میں ایک مرتبہ اتی ہے: یاد رہے کہ سال بھر میں شب قدر ایک مرتبہ آتی ہے اور کثیر روایات سے ثابت ہے کہ وہ رمضان المبارک کے اخری عشرہ میں ہوتی ہے اور اکثر اس کی بھی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات میں ہوتی ہے۔ بعض علماء کے نزدیک رمضان المبارک کی ستائیسویں رات شب قدر ہوتی ہے اور یہی حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے۔( مدارک القدر تحت الایۃ: ۱ ص۱۳۶۴) شب قدر کو پوشیدہ رکھے جانے کی وجوہات: امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں اللہ عزوجلنے شب قدر کو چند وجوہ کی بناء پر پوشیدہ رکھا ہے۔ (1)… جس طرح دیگر اشیاء کو پوشیدہ رکھامثلا اللہ عزوجلنے اپنی رضا کو اطاعتوں میں پوشیدہ فرمایا تاکہ بندے ہر اطاعت میں رغبت حاصل کریں ۔ اپنے غضب کو گناہوں میں پوشیدہ فرمایا تاکہ ہر گناہ سے بچتے رہیں ۔اپنے ولی کو لوگوں میں پوشیدہ رکھا تا کہ لوگ سب کی تعظیم کریں ۔ دعاء کی قبولیت کو دعاوں میں پوشیدہ رکھاتا کہ وہ سب دعاؤں میں مبالغہ کریں ۔ اسم اعظم کو اسماء میں پوشیدہ رکھا تاکہ وہ سب اسماء کی تعظیم کریں ۔اورنماز وسطی کو نمازوں میں پوشیدہ رکھا تاکہ تمام نمازوں کی پابندی کریں ۔تو بہ کی قبولیت کوپوشیدہ رکھاتاکہ بندہ توبہ کی تمام اقسام پر ہمیشگی اختیار کرے اور موت کا وقت پوشیدہ رکھا تاکہ بندہ خوف کھاتا رہے اسی طرح شب قدر کوبھی پوشیدہ رکھاتا کہ لوگ رمضان کی تمام راتوں کی تعظیم کریں ۔ (2)…گویا کہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’اگر میں شب قدر کو معین کردیتا اور یہ کہ میں گناہ پر تیری جرات کو بھی جانتا ہوں تواگرکبھی شہوت تجھے اس رات میں گناہ کے کنارے لا چھوڑتی اور تو گناہ میں مبتلا ہوجاتا تو تیرا اس رات کو جاننے کے باوجود گناہ کرنا لاعلمی کے ساتھ گناہ کرنے سے زیادہ سخت ہوتا۔ پس اس وجہ سے میں نے اسے پوشیدہ رکھا ۔ (3)…گویا کہ ارشاد فرمایا میں نے اس رات کو پوشیدہ رکھا تاکہ شرعی احکام کا پابند بندہ اس رات کی طلب میں محنت کرے اور اس محنت کا ثواب کمائے ۔ (4)…جب بندے کو شب قدر کا یقین حاصل نہ ہوگا تووہ رمضان کی ہر رات میں اس امید پر اللہ عزوجل کی اطاعت میں کوشش کرے گا کہ ہوسکتا ہے کہ یہی رات شب قدر ہو۔(تفسیر کبیر القدر تحت الایۃ: ۱ ۱۱ / ۲۲۹-۲۳۰)