Surah Al Qadr Ayat 2 (97:2)
The Power · Juz 30 · Makki
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِﭤ 2
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تجھے کیا معلوم کہ شب ِ قدرکیا ہے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تم نے کیا جانا کیا شبِ قدر۔
Tafseer (Urdu)
{لیلة القدر ﳔ خیر من الف شهر: شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔} یہاں سے شب قدر کے عظیم فضائل بیان کئے جا رہے ہیں چنانچہ شب قدر کی ایک فضیلت یہ ہے کہ شب قدر ان ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شب قدر سے خالی ہوں اور اس ایک رات میں نیک عمل کرنا ہزار راتوں کے عمل سے بہتر ہے۔( خازن القدر تحت الایۃ:۳ ۴ / ۳۹۷ مدارک القدر تحت الایۃ: ۳ ص۱۳۶۴ ملتقطا) ہزار مہینوں سے بہترایک رات: حضرت مجاہد رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا جس نے ایک ہزار مہینے راہ خدا عزوجل میں جہاد کیا مسلمانوں کو اس سے تعجب ہوا تو اللہ تعالی نے یہ آیات نازل فرمائیں : ’’ انا انزلنه فی لیلة القدر (۱) و ما ادرىك ما لیلة القدر(۲) لیلة القدر ﳔ خیر من الف شهر ‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ہم نے اس قران کو شب قدر میں نازل کیا۔اور تجھے کیا معلوم کہ شب قدرکیا ہےشب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔( سنن الکبری للبیہقی کتاب الصیام باب فضل لیلۃ القدر ۴ / ۵۰۵ الحدیث: ۸۵۲۲) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’اللہ تعالی نے میری امت کو شب قدر کا تحفہ عطا فرمایا اور ان سے پہلے اور کسی کو یہ رات عطا نہیں فرمائی ۔( مسند فردوس باب الالف ۱ / ۱۷۳ الحدیث: ۶۴۷) مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’یہ اللہ تعالی کا اپنے حبیب (صلی اللہ تعالی علیہو الہ وسلم) پر کرم ہے کہ آپ (صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم) کے امتی شب قدر کی ایک رات عبادت کریں تو ان کا ثواب پچھلی امت کے ہزار ماہ عبادت کرنے والوں سے زیادہ ہو۔(خزائن العرفان القدر تحت الایۃ: ۳ ص۱۱۱۳) اور مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ اس ایت سے دو فائدے حاصل ہوئے ایک یہ کہ بزرگ چیزوں سے نسبت بڑی ہی مفید ہے کہ شب قدر کی یہ فضیلت قران کی نسبت سے ہے اصحاب کہف کے کتے کو ان بزرگوں سے منسوب ہو کر دائمی زندگی عزت نصیب ہوئی دوسرا یہ کہ تمام اسمانی کتابوں سے قران شریف افضل ہے کیونکہ تورات و انجیل کی تاریخ نزول کو یہ عظمت نہ ملی۔( نور العرفان القدر تحت الایۃ: ۳ ص۹۹۰)