Surah Al Bayyinah Ayat 1 (98:1)
The Clear Proof · Juz 30 · Madani
لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکتابی کافر اور مشرک (اپنا دین) چھوڑنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے ۔
Tafseer (Urdu)
{لم یكن الذین كفروا من اهل الكتب و المشركین منفكین: کتابی کافر اور مشرک (اپنا دین) چھوڑنے والے نہ تھے۔} یعنی کتابی کافر یہودی اور عیسائی اور مشرک بت پرست اپنا دین چھوڑنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم جلوہ افروز نہ ہوں کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی تشریف آوری سے پہلے یہ تمام لوگ یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دین چھوڑنے والے نہیں جب تک کہ وہ نبی تشریف فرما نہ ہوں جن کا ذکر توریت اور انجیل میں ہے اور جب وہ نبی تشریف لائے اور انہوں نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو ان میں سے کچھ لوگ ان پر ایمان لائے اور کچھ نے ان کے ساتھ کفر کیا۔( خازن البینۃ تحت الایۃ: ۱ ۴ / ۳۹۸ صاوی البینۃ تحت الایۃ: ۱ ۶ / ۲۴۰۳-۲۴۰۴ ملتقطا) سورہ بینہ کی ایت نمبر1سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں (1)… اگرچہ اہل کتاب اور مشرکین سب ہی کافر ہیں مگر چونکہ اہل کتاب کو کسی پیغمبر اور کتاب سے نسبت ہے اس لئے ان کے احکام نرم ہیں اور اگر یہ ایمان قبول کریں تو انہیں د گنا ثواب ملتا ہے جب کتاب اور پیغمبر سے نسبت کفار کو اتنا فائدہ دے دیتی ہے تو جس مومن کو حضور پرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اور قران سے خصوصی نسبت ہو جائے تو اس کا کیا عالم ہوگا۔ (2)… حضوراقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ایسی قوم کو درست فرمایا کہ جس کی اصلاح بظاہر نا ممکن تھی۔ (3)… اسمانی کتابوں پر عمل ان کے منسوخ ہونے سے پہلے ہدایت تھا اور ان کے منسوخ ہونے کے بعد ان پر عمل گمراہی ہو گیا۔