Surah Al Zalzalah Ayat 4 (99:4)
The Earthquake · Juz 30 · Madani
یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاؕ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی ۔
Tafseer (Urdu)
{یومىذ تحدث اخبارها: اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی۔}اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کاخلاصہ یہ ہے کہ جب یہ امور واقع ہوں گے تو اس دن زمین اللہ تعالی کے حکم سے مخلوق کو اپنی خبریں بتائے گی اور جو نیکی بدی اس پر کی گئی وہ سب بیان کرے گی اور اس سے مقصود یہ ہو گا کہ زمین نافرمانوں سے شکوہ کرسکے اور فرمانبرداروں کا شکریہ ادا کر سکے چنانچہ وہ یہ کہے گی کہ’’فلاں شخص نے مجھ پر نماز پڑھی فلاں نے زکوۃ دی فلاں نے روزے رکھے اور فلاں نے حج کیا جبکہ فلاں نے کفر کیا فلاں نے زنا کیا فلاں نے چوری کی فلاں نے ظلم کیا حتی کہ کافر (یہ سن کر)تمنا کرے گا کہ اسے جہنم میں پھینک دیا جائے ۔( خازن الزلزلۃ تحت الایۃ: ۴-۵ ۴ / ۴۰۱ تفسیر کبیر الزلزلۃ تحت الایۃ: ۴ ۱۱ / ۲۵۵ ملتقطا) ہمارے اعمال کے گواہ : اس سے معلوم ہوا کہ زمین ہمارے اعمال پر گواہ ہے اور قیامت کے دن یہ ہمارے سامنے ہمارے اعمال بیان کر دے گی۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے یہ ایت’’ یومىذ تحدث اخبارها‘‘ تلاوت فرمائی پھر ارشاد فرمایا’’تم جانتے ہو کہ اس(زمین) کی خبریں کیا ہیں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کی :اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم زیادہ جانتے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا’’اس کی خبریں یہ ہیں کہ وہ ہر مرد و عورت پرا س کے ان اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کئےوہ کہے گی :اس نے فلاں دن یہ عمل کیا اورا س نے فلان دن یہ عمل کیایہی اس کی خبریں ہیں ۔( ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق و الورع ۷-باب منہ ۴ / ۱۹۴ الحدیث: ۲۴۳۷) لہذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ گناہ کرتے وقت زمین سے محتاط رہے۔ حضرت ربیعہ جرشی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’زمین سے محتاط رہو کہ یہ تمہاری اصل ہے اور جو کوئی اس پر اچھا یا برا عمل کرے گایہ اس کی خبر دے گی ۔( معجم الکبیر باب الرائ ربیعۃ بن الغاز الجرشی... الخ ۵ / ۶۵ الحدیث: ۴۵۹۶) اسی طرح ہمارے اعضاء جن سے ہم گناہ کرتے ہیں یہ بھی ہمارے اعمال پر گواہ ہیں اور قیامت کے دن یہ وہ سب اعمال بیان کر دیں گے جو ان سے کئے گئے ہوں گے چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ ان السمع و البصر و الفؤاد كل اولىك كان عنه مسـٴـولا ‘‘(بنی اسرائیل:۳۶) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سبکے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ یوم تشهد علیهم السنتهم و ایدیهم و ارجلهم بما كانوا یعملون‘‘(نور:۲۴) ترجمہ کنزالعرفان: جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ لہذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ جب اپنے کانانکھدلزبانہاتھ اور پاوں سے کوئی گنا ہ کرنے لگے تو وہ یہ بات پیش نظر رکھے کہ قیامت کے دن یہی اعضاء اس کے اس گناہ کی گواہی دیں گے۔