Surah Al Fatiha Ayat 6 (1:6)
The Opening · Juz 1 · Makki
صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ ﴰ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے احسان کیا
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanراستہ اُن کا جن پر تُو نے احسان کیا،
Tafseer (Urdu)
{صراط الذین انعمت علیهم:ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے احسان کیا۔}یہ جملہ اس سے پہلی ایت کی تفسیر ہے کہ صراط مستقیم سے مراد ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر اللہ تعالی نے احسان و انعام فرمایااور جن لوگوں پر اللہ تعالی نے اپنا فضل و احسان فرمایا ہے ان کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے: ’’و من یطع الله و الرسول فاولىك مع الذین انعم الله علیهم من النبین و الصدیقین و الشهدآء و الصلحین-و حسن اولىك رفیقا‘‘(النساء:۶۹) ترجمہ کنزالعرفان:اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہونگے جن پر اللہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور یہ کتنے اچھے ساتھی ہیں۔ ایت’’صراط الذین انعمت علیهم‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)… جن امور پر بزرگان دین کا عمل رہا ہو وہ صراط مستقیم میں داخل ہے۔ (2)…امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : بعض مفسرین نے فرمایا کہ ’’اهدنا الصراط المستقیم‘‘ کے بعد’’صراط الذین انعمت علیهم‘‘ کو ذکر کرنا ا س بات کی دلیل ہے کہ مرید ہدایت اورمکاشفہ کے مقامات تک اسی صورت پہنچ سکتا ہے جب وہ کسی ایسے (کامل)پیر کی پیروی کرے جو درست راستے کی طرف اس کی رہنمائی کرے غلطیوں اور گمراہیوں کی جگہوں سے اسے بچائے کیونکہ اکثر لوگوں پر نقص غالب ہے اور ان کی عقلیں حق کو سمجھنے صحیح اور غلط میں امتیاز کرنے سے قاصر ہیں تو ایک ایسے کامل شخص کا ہونا ضروری ہے جس کی ناقص شخص پیروی کرے یہاں تک کہ اس کامل شخص کی عقل کے نور سے ا س ناقص شخص کی عقل بھی مضبوط ہو جائے تو اس صورت میں وہ سعادتوں کے درجات اور کمالات کی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔(تفسیر کبیر الفاتحۃ الباب الثالث ۱ / ۱۶۴) {غیر المغضوب علیهم و لا الضآلین:نہ کہ ان کا راستہ جن پر غضب ہوا اور نہ بہکے ہوؤں کا۔ }جن پر اللہ تعالی کا غضب ہوا ان سے مراد یہودی اوربہکے ہووں سے مراد عیسائی ہیں جیساکہ سنن ترمذی جلد4صفحہ444 حدیث نمبر 2964میں ہے اور امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ تعالی علیہ نے یہ بھی لکھا ہے کہ جن پر غضب ہوا ان سے مراد بدعمل ہیں اور بہکے ہووں سے مراد بدعقیدہ لوگ ہیں۔(تفسیر کبیر الفاتحۃ تحت الایۃ: ۷ ۱ / ۲۲۲-۲۲۳) ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ عقائد اعمال سیرتصورت ہر اعتبار سے یہودیوں عیسائیوں اور تمام کفار سے الگ رہے نہ ان کے طور طریقے اپنائے اور نہ ہی ان کے رسم ورواج اور فیشن اختیار کرے اوران کی دوستیوں اور صحبتوں سے دور رہتے ہوئے اپنے اپ کو قران وسنت کے سانچے میں ڈھالنے میں ہی اپنے لئے دونوں جہان کی سعادت تصور کرے۔ ([1]) ایت ’’و لا الضآلین‘‘ سے متعلق شرعی مسئلہ: بعض لوگ ’’و لا الضآلین‘‘ کو ’’ولا الظا لین‘‘ پڑھتے ہیں ان کا ایسا کرنا حرام ہے۔اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :ضظذز سب حروف متبائنہمتغائرہ (یعنی ایک دوسرے سے جداجدا حروف) ہیں ان میں سے کسی کو دوسرے سے تلاوت قران میں قصدا بدلنااس کی جگہ اسے پڑھنا نماز میں ہو خواہ بیرون نماز حرام قطعی وگناہ عظیمافتراء علی اللہ و تحریف کتاب کریم ہے۔(فتاوی رضویہ ۶ / ۳۰۵) اس مسئلے کے بارے میں دلائل کے ساتھ تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاوی رضویہ کی چھٹی جلد میں موجود ان رسائل کا مطالعہ فرمائیں : (۱) نعم الزاد لروم الضاد۔(ضاد کی ادائیگی کا بہترین طریقہ)(۲)الجام الصاد عن سنن الضاد۔(ضاد کی ادائیگی کے غلط اور صحیح طریقوں کا بیان) {امین}اس کا ایک معنی ہے :اے اللہ !عزوجلتو قبول فرما۔دوسرا معنی ہے :اے اللہ !عزوجلتو ایسا ہی فرما۔ امین سے متعلق شرعی مسائل: (1)…یہ قرآن مجید کا کلمہ نہیں ہے ۔ (2)… نماز کے اندر اور نماز سے باہر جب بھی ’’سورہ فاتحہ‘‘ ختم کی جائے تو ا س کے بعد امین کہنا سنت ہے۔ (3) … احناف کے نزدیک نماز میں امین بلند اواز سے نہیں بلکہ اہستہ کہی جائے گی۔ [1] ۔۔۔۔ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کے لئے تبلیغ قران وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی سے وابستہ ہو جانا بے حد مفید ہے۔