Surah Al Humazah Ayat 1 (104:1)
The Traducer · Juz 30 · Makki
وَیْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةِ ﹰ 1
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاس کے لیے خرابی ہے جو لوگوں کے منہ پر عیب نکالے، پیٹھ پیچھے برائی کرے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanخرابی ہے اس کے لیے جو لوگوں کے منہ پر عیب کرے پیٹھ پیچھے بدی کرے ۔
Tafseer (Urdu)
{ویل لكل همزة لمزة: اس کے لیے خرابی ہے جو لوگوں کے منہ پر عیب نکالے پیٹھ پیچھے برائی کرے۔} یہ آیتیں ان کفار کے بارے میں نازل ہوئیں جوسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر اعتراضات کرتے تھے اور ان حضرات کی غیبت کرتے تھےجیسے اخنس بن شریق امیہ بن خلف اور ولید بن مغیرہ وغیرہ اور اس ایت میں مذکور حکم ہر غیبت کرنے والے کے لئے عام ہے۔(جلالین الہمزۃ تحت الایۃ: ۱ ص۵۰۶ مدارک الہمزۃ تحت الایۃ: ۱ ص۱۳۷۳ ملتقطا) غیبت اور عیب جوئی کی مذمت: ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’یایها الذین امنوا اجتنبوا كثیرا من الظن-ان بعض الظن اثم و لا تجسسوا و لا یغتب بعضكم بعضا-ایحب احدكم ان یاكل لحم اخیه میتا فكرهتموه-و اتقوا الله-ان الله تواب رحیم‘‘(حجرات:۱۲) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور( پوشیدہ باتوں کی)جستجونہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم میں کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں ناپسند ہوگا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’میں معراج کی رات ایسی قوم کے پاس سے گزرا جو اپنے چہروں اورسینوں کو تانبے کے ناخنوں سے نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا : اے جبرئیل ! علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں انہوں نے عرض کی: یہ لوگوں کا گوشت کھاتے (یعنی غیبت کرتے)تھے اور ان کی عزت خراب کرتے تھے۔( ابو داود کتاب الادب باب فی الغیبۃ ۴ / ۳۵۳ الحدیث: ۴۸۷۸) حضرت راشد بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’ معراج کی رات میں ایسی عورتوں اور مردوں کے پاس سے گزرا جو اپنی چھاتیوں کے ساتھ لٹک رہے تھے تو میں نے پوچھا:اے جبرئیل! علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں انہوں نے عرض کی:یہ منہ پر عیب لگانے والے اور پیٹھ پیچھے برائی کر نے والے ہیں اور ان کے بارے میں اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ’’ویل لكل همزة لمزة ‘‘ اس کے لیے خرابی ہے جو لوگوں کے منہ پر عیب نکالے پیٹھ پیچھے برائی کرے۔( شعب الایمان الرابع و الاربعون من شعب الایمان... الخ فصل فیما ورد من الاخبار فی التشدید... الخ ۵ / ۳۰۹ الحدیث: ۶۷۵۰) اللہ تعالی ہمیں غیبت اور عیب جوئی جیسے مذموم اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔