Surah Hud Ayat 10 (11:10)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ لَىٕنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْؕ-اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ہم مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی ہو اسے نعمت کا مزہ دیں تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوگئیں بیشک وہ (اس وقت) بہت خوش ہونے والا، فخر و تکبر کرنے والا ہوجاتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ہم اسے نعمت کا مزہ دیں اس مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی تو ضرور کہے گا کہ برائیاں مجھ سے دور ہوئیں بیشک وہ خوش ہونے والا بڑائی مارنے والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لىن اذقنه نعمآء بعد ضرآء مسته:اور اگر ہم کسی مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی ہو اسے نعمت کا مزہ دیں۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم انسان کو اس مصیبت کے بعد جو اسے پہنچی ہو نعمت کا مزہ چکھائیں اور بیماری کے بعد صحت تنگی کے بعد اسانی اور فقیری کے بعد مال و دولت کی وسعت عطا کریں تو ایسا بندہ یہ تو کہتا ہے کہ جو مصیبتیں مجھے پہنچیں وہ اب مجھ سے دور ہو گئیں لیکن اس وقت شکر گزار ہونے اور حق نعمت ادا کرنے کے بجائے وہ خوشی میں پھولتا پھرتا ہے اور ان نعمتوں کے ملنے کی وجہ سے فخر و تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔(ابوسعود ہود تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۱۱ مدارک ہود تحت الایۃ: ۱۰ ص۴۹۱ خازن ہود تحت الایۃ: ۱۰ ۲ / ۳۴۲ ملتقطا)یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ مصیبت دور ہونے اور نعمت ملنے کے بعد ناشکری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ مزید اطاعت کے لئے سر جھکا دینا چاہیے۔ شیخی کی خوشی منع اورشکریہ کی خوشی عبادت ہے: اس ایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیخی کی خوشی منع ہے جبکہ شکریہ کی خوشی عبادت ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے: ’’قل بفضل الله و برحمته فبذلك فلیفرحوا‘‘( یونس:۵۸) ترجمہ کنزالعرفان: تم فرماؤ: اللہ کے فضل اور اس کی رحمت پر ہی خوشی منانی چاہیے۔ مذکورہ بالا دونوں خوشیوں میں فرق کی وجہ یہ ہے کہ شیخی کی خوشی میں نظر اپنی ذات پر ہوتی ہے اور شکریہ میں توجہ رب کریم عزوجل کی طرف ہوتی ہے نیز شیخی غفلت پید اکرتی ہے اور شکریہ کی خوشی جذبہ اطاعت پیدا کرتی ہے۔