Surah Hud Ayat 9 (11:9)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ لَىٕنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُۚ-اِنَّهٗ لَیَـٴُـوْسٌ كَفُوْرٌ 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر وہ رحمت اس سے چھین لیں توبیشک وہ بڑا مایوس اور ناشکرا (ہوجاتا) ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ہم آدمی کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں پھر اسے اس سے چھین لیں ضرور وہ بڑا ناامید ناشکرا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و لىن اذقنا الانسان منا رحمة:اور اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ دیں۔} ایک قول یہ ہے کہ اس ایت میں ’’الانسان‘‘ سے مراد مطلق انسان ہے پھر (ایت نمبر 11میں ) اس سے صبر کرنے والے اور نیک مسلمانوں کا استثنا ء فرمایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایت میں مذکور ’’ الانسان‘‘ میں مومن اور کافر دونوں داخل ہیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ’’الانسان‘‘ سے کافر انسان مراد ہے۔ (تفسیرکبیر ہود تحت الایۃ: ۹ ۶ / ۳۲۱-۳۲۲) اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ہم انسان کو اپنی کسی رحمت کا مزہ چکھائیں اور صحت امن وسعت رزق اور دولت عطا کریں پھر یہ سب اس سے چھین لیں اور اسے مصائب میں مبتلا کردیں تو بیشک وہ دوبارہ اس نعمت کے پانے سے مایوس ہوجاتا ہے اور اللہ عزوجل کے فضل سے اپنی امید ختم کرلیتا ہے اور صبر و رضا پر ثابت قدم نہیں رہتا اور گزشتہ نعمت کی ناشکری کرتا ہے۔ (مدارک ہود تحت الایۃ: ۹ ص۴۹۱ خازن ہود تحت الایۃ: ۹ ۲ / ۳۴۲ ملتقطا)