Surah Hud Ayat 8 (11:8)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ لَىٕنْ اَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِلٰۤى اُمَّةٍ مَّعْدُوْدَةٍ لَّیَقُوْلُنَّ مَا یَحْبِسُهٗؕ-اَلَا یَوْمَ یَاْتِیْهِمْ لَیْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر ہم ان سے کچھ گنتی کی مدت تک کے لئے عذاب میں دیر کردیں تو ضرور کہیں گے : کس چیز نے روکا ہوا ہے؟ خبردار! جس دن وہ عذاب ان پر آئے گا تو ان سے پھیرا نہیں جائے گا اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑاتے تھے وہی ان کو گھیرے ہوئے ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ہم ان سے عذاب کچھ گنتی کی مدت تک ہٹادیں تو ضرور کہیں گے کس چیز نے اسے روکا ہے سن لو جس دن ان پر آئے گا ان سے پھیرا نہ جائے گااور انہیں گھیرلے گا وہی عذاب جس کی ہنسی اڑاتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و لىن اخرنا عنهم العذاب الى امة معدودة:اور اگر ہم ان سے کچھ گنتی کی مدت تک کے لئے عذاب میں دیر کر دیں۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے کفار کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا کہ یہ قران کو کھلا جادو کہہ کر میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جھٹلاتے ہیں اور ا س ایت میں ان کفار کی ایک اور باطل گفتگو ذکر فرمائی وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کفار کو جس عذاب کا وعدہ دیا تھا وہ جب ان سے موخر ہوا تو کفار تکذیب اور استہزاء کے طور پر کہنے لگے کہ کس وجہ سے ہم سے عذاب روک دیاگیا ہے اللہ تعالی نے انہیں جواب دیا کہ جب وہ وقت اجائے گا کہ جسے اللہ تعالی نے عذاب کے لئے متعین فرمایا ہے تو ہم وہ عذاب ان پر ناز ل کر دیں گے جس کا یہ مذاق اڑا رہے ہیں اور وہ عذاب ان سے پھیرا نہ جائے گا بلکہ ان سب کوگھیر لے گا۔ (تفسیرکبیر ہود تحت الایۃ: ۸ ۶ / ۳۲۱) اللہ تعالی کے عذاب سے بے خوفی ہلاکت کا سبب ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اللہ تعالی کے عذاب سے بے خوف ہونا ہلاکت کا سبب ہے اس لئے ہر عقلمند انسان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالی کی نافرمانی کرنے سے ڈرتا رہے اور اس کے عذاب سے کبھی بے خوف نہ ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’میری عزت کی قسم! میں اپنے کسی بندے پر نہ دو خوف جمع کرو ں گا اور نہ دو امن جمع کروں گا اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرے گا تو میں قیامت کے دن اسے امن دوں گا اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے امن میں رہے گا تو میں قیامت کے دن اسے خوف میں مبتلا کروں گا۔ (کنز العمال کتاب الاخلاق قسم الافعال الباب الاول فی الاخلاق المحمودۃ الفصل الثانی الخوف والرجاء ۲ / ۲۸۳ الحدیث: ۸۵۲۵ الجزء الثالث) ہمارے اسلاف اللہ تعالی کی نافرمانی سے انتہائی دور اور اس کی اطاعت و فرمانبرادری میں بے حد مصروف رہنے کے باوجود اللہ تعالی کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بہت ڈرا کرتے تھے چنانچہ ایک مرتبہ حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ ’’مجھے مقربین پر اس لئے رشک نہیں اتا کہ یہ سب قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کریں گے البتہ مجھے صرف اس پر رشک اتا ہے جو پیدا ہی نہیں ہوا کیونکہ وہ قیامت کے احوال اور ا س کی سختیاں نہیں دیکھے گا اور حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا ’’ میری خواہش ہے کہ میں بغداد کے علاوہ کسی اور جگہ انتقال کروں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ اگر میری قبر نے مجھے قبول نہ کیا تو کہیں میں لوگوں کے سامنے رسوا نہ ہو جاوں۔ (روح البیان ہود تحت الایۃ: ۸ ۴ / ۱۰۱)اللہ تعالی ہمیں اپنے عذاب سے بے خوف ہونے سے بچائے اور ہمارے دلوں میں اس کا ڈر پیدا فرمائے امین۔