Surah Hud Ayat 12 (11:12)
Hud · Juz 12 · Makki
فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآىٕقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌؕ-اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌؕ-وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌﭤ 12
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو کیا تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس میں سے کچھ چھوڑ دو گے اور اس پرتمہارا دل اس وجہ سے تنگ ہوجائے گا کہ وہ کہتے ہیں : ان پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اترتا یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آتا؟ تم تو ڈر سنانے والے ہو ، اور اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو کیا جو وحی تمہاری طرف ہوتی ہے اس میں سے کچھ تم چھوڑ دو گے اور اس پر دل تنگ ہوگے اس بنا پر کہ وہ کہتے ہیں ان کے ساتھ کوئی خزانہ کیوں نہ اترا یاان کے ساتھ کوئی فرشتہ آتا تم تو ڈر سنانے والے ہو اور اللہ ہر چیز پر محافظ ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فلعلك تارك بعض ما یوحى الیك:تو کیا تمہاری طرف جو وحی بھیجی جاتی ہے تم اس میں سے کچھ چھوڑ دو گے۔} اس ایت کی تفسیر میں علماء نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم رسالت کی ادائیگی میں کمی کرنے والے نہیں اور اس نے ان کو اس سے معصوم فرمایا ہے اس کے باوجود اللہ تعالی نے انہیں تبلیغ رسالت کی تاکید فرمائی اور اس تاکید میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تسکین خاطر بھی ہے اور کفار کی مایوسی بھی کہ ان کا مذاق اڑانا تبلیغ کے کام میں مخل نہیں ہو سکتا۔ شان نزول : عبداللہ بن امیہ مخزومی نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر آپ سچے رسول ہیں اور آپ کا خدا ہر چیز پر قادر ہے تو اس نے آپ پر خزانہ کیوں نہیں اتارا یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جو آپ کی رسالت کی گواہی دیتا اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (خازن ہود تحت الایۃ: ۱۲ ۲ / ۳۴۳ ملخصا) نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا وحی میں خیانت کرنا ناممکن ہے: امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع اور اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کاوحی اور تنزیل میں خیانت کرنا اور وحی کی بعض چیزوں کو ترک کر دینا ممکن نہیں کیونکہ اگر یہ بات ممکن مانیں تو اس طرح ساری شریعت ہی مشکوک ہو جائے گی اور نبوت میں طعن لازم ائے گا نیز رسالت سے اصل مقصود ہی یہی ہے کہ اللہ تعالی کے تمام احکام بندوں تک پہنچا دیئے جائیں اور جب ایسا نہ ہو تو رسالت سے جو فائدہ مطلوب تھا وہ حاصل ہی نہ ہو گا اس لئے اس ایت کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے بلکہ اس ایت سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اگر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ساری وحی کی تبلیغ کریں گے تو کفار کی طرف سے طعن و تشنیع اور مذاق اڑانے کا خدشہ ہے اور اگر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بتوں کی مذمت والی ایات نہ بیان کریں گے تو کفار اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کا مذاق تو نہ اڑائیں گے لیکن اس طرح وحی میں خیانت لازم ائے گی اور جب دو خرابیوں میں سے ایک خرابی لازم ہو تو اس وقت بڑی خرابی کو ترک کر کے چھوٹی خرابی کو برداشت کر لینا چاہئے اور چونکہ وحی میں خیانت کرنے کے مقابلے میں کفار کے طعن و تشنیع کو برداشت کرلینا زیادہ اسان ہے اس لئے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم وحی میں خیانت کی خرابی سے دور رہتے ہوئے کفار کے طعن و تشنیع کی خرابی کو برداشت کرلیں۔ (تفسیرکبیر ہود تحت الایۃ: ۱۲ ۶ / ۳۲۳-۳۲۴)