Surah Hud Ayat 23 (11:23)
Hud · Juz 12 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْۙ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ 23
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے اورانہوں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا تو یہی لوگ جنتی ہیں ،وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور اپنے رب کی طرف رجوع لائے وہ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین امنوا:بیشک جو ایمان لائے ۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی نے کفار کے دنیوی حالات اور اخروی خسارے کا ذکر فرمایا اس کے بعد اس ایت میں اہل ایمان کے دنیوی حالات اور اخروی فوائد بیان فرمائے ۔ (خازن ہود تحت الایۃ: ۲۳ ۲ / ۳۴۷) اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جو ایمان لاتے اور اللہ عزوجل کی عبادت کرتے ہیں اور عبادت کی ادائیگی کے وقت ان کے دل اللہ تعالی کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں اور اس وقت اللہ تعالی کے سوا کسی اور کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ’’ و اخبتوا الى ربهم ‘‘ کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی نے ثواب و عذاب کا جو بھی وعدہ فرمایا ہے اس کی سچائی پر ان کے دل مطمئن ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے عمل کئے اور اس بات سے ڈرتے رہے کہ کہیں ان کے اعمال میں کوئی نقص یا کمی نہ رہ گئی ہو۔ جن لوگوں میں یہ تین اوصاف ہوں تو وہ جنتی ہیں اور وہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ (تفسیرکبیر ہود تحت الایۃ: ۲۳ ۶ / ۳۳۵) اپنے اعمال کی فکر کرنے کی ترغیب: ہمارے اسلاف کا یہی حال تھا کہ وہ ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے کے باوجود ان میں نقص یا کمی رہ جانے سے ڈرتے تھے بلکہ وہ عظیم المرتبت صحابی جن کے عدل وانصاف اور بہترین حکمرانی پر تاریخ اسلام کو ناز ہے اور جنہیں دنیا میں ہی مالک جنت قاسم نعمت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی زبان اقدس سے جنت کی بشارت مل گئی یعنی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ وہ بھی اس معاملے میں خوفزدہ رہتے تھے چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور شہادت کا وقت قریب ایا توایک انصاری نوجوان حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے: اے امیر المومنین! رضی اللہ تعالی عنہ اپ کو اللہ تعالی کی طرف سے بشارت ہو کہ اسلام میں اپ کا جو مقام ہے وہ اپ جانتے ہیں پھر جب اپ خلیفہ بنائے گئے تو اپ رضی اللہ تعالی عنہ نے عدل وانصاف کیا اور اس کے بعد شہادت پائی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا : اے بھتیجے! کاش مجھے برابری پر چھوڑ دیا جائے کہ نہ عذاب ہو نہ ثواب۔ (بخاری کتاب الجنائز باب ما جاء فی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر وعمر رضی اللہ عنہما ۱ / ۴۶۹ الحدیث: ۱۳۹۲) اللہ تعالی ہمیں بھی اپنے اعمال کی فکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔