Surah Hud Ayat 29 (11:29)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْــٴَـلُكُمْ عَلَیْهِ مَالًاؕ-اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ لٰـكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے قوم! میں تم سے اس پر کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور نہیں کروں گا بیشک یہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تم لوگوں کو بالکل جاہل قوم سمجھتا ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے قوم میں تم سے کچھ اس پر مال نہیں مانگتا میرا اجر تو اللہ ہی پر ہے اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں لیکن میں تم کو نرے جاہل لوگ پا تا ہوں۔
Tafseer (Urdu)
{ و یقوم:اور اے قوم!} امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ اس ایت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’’گویا کہ حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم سے فرمایا ’’تم میرے ظاہری حالات کی طرف دیکھتے ہو کہ میں مال و دولت نہیں رکھتا جس کی وجہ سے تمہارا یہ گمان ہے کہ میں نے اللہ تعالی کا پیغام پہنچانے کا یہ کام اس لئے شروع کیا ہے تاکہ اس پرتم سے مال و دولت حاصل کروں۔ تمہارا یہ گمان غلط ہے میں رسالت کی تبلیغ پر تم سے کوئی اجرت طلب نہیں کرتا میرا اجر تو اللہ رب العالمین عزوجل کے ذمہ کرم پر ہے لہذا تم اس فاسد گمان کی وجہ سے اپنے اپ کو اخروی سعادتوں کے حصول سے محروم نہ کرو۔(تفسیرکبیر ہود تحت الایۃ: ۲۹ ۶ / ۳۳۹) {و ما انا بطارد الذین امنوا:اور میں مسلمانوں کو دور نہیں کروں گا۔} حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے لوگ اپ سے کہتے تھے کہ اے نوح! گھٹیا لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیجئے تاکہ ہمیں آپ کی مجلس میں بیٹھنے سے شرم نہ آئے۔ ان کی اس بات کے جواب میں حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میں تمہاری وجہ سے مسلمانوں کو اپنے اپ سے دور نہیں کروں گا کیونکہ ان کی شان تو یہ ہے کہ یہ اپنے رب عزوجل سے ملنے والے ہیں اور اس کے قرب سے سرفراز ہوں گے تو میں انہیں کیسے نکال دوں ہاں اس کے برعکس میں تم لوگوں کو بالکل جاہل سمجھتا ہوں کیونکہ تم ایمانداروں کو گھٹیا کہتے ہو اور ان کی قدر نہیں کرتے اور نہیں جانتے کہ وہ تم سے بہتر ہیں۔ مالداروں کو قریب کرنا اور غریبوں کو دور کرنا درست نہیں : اس سے پیر صاحبان علماء و خطباء کو بھی درس حاصل کرنا چاہیے کہ مالداروں کو اپنے قرب میں جگہ دینا ان کی فرمائش پر فورا ان کے گھر حاضر ہوجانا جبکہ غریبوں کو خود سے کچھ فاصلے پر رکھنا اور ان کی بار بار کی فریادوں کے باوجود بھی ان پر شفقت نہ کرنا درست نہیں اور نہ ہی ان حضرات کے شایان شان ہے۔ نیز مالداروں کیلئے بھی اس ایت میں عبرت ہے کہ دیندار غریبوں کو حقیر سمجھنا کفار کا طریقہ ہے جیسے غریب علماء کرام طلباء دین مبلغین وغیرہ کو مالدار سیٹھ صاحبان دو کوڑی کی عزت دینے کو تیار نہیں ہوتے چندہ بھی دینا ہو تو دس چکر لگوا کر دیں گے اور ماتھے پر تیوری چڑھا کر دیں گے اور دینے کے بعد انہیں اپنا نوکر سمجھیں گے۔