Surah Hud Ayat 53 (11:53)
Hud · Juz 12 · Makki
قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ 53
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariانہوں نے کہا: اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئے اور ہم صرف تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی تمہاری بات پر یقین کرنے والے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولے اے ہود تم کوئی دلیل لے کر ہمارے پاس نہ آئے اور ہم خالی تمہارے کہے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے کے نہیں نہ تمہاری بات پر یقین لائیں۔
Tafseer (Urdu)
{قالوا یهود:انہوں نے کہا: اے ہود!} حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم نے مذاق اڑاتے ہوئے اور عناد کے طور پر یہ جواب دیا کہ اے ہود! تم ہمارے پاس کوئی دلیل لے کر نہیں آئے جو تمہارے دعوے کی صحت پر دلالت کرتی ۔ یہ بات انہوں نے بالکل غلط اور جھوٹ کہی تھی کیونکہ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں جو معجزات دکھائے تھے وہ ان سب سے مکر گئے تھے۔(بیضاوی ہود تحت الایۃ: ۵۳ ۳ / ۲۳۹-۲۴۰) {و ما نحن بتاركی الهتنا:اور ہم اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔} کفار اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار صرف اللہ تعالی کو ہے جبکہ اس کے برعکس بت کوئی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتےاس کے باوجود انہوں نے حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ کہاکہ ہم اپ کی بات کی وجہ سے اپنے بتوں کی عبادت کرنا نہیں چھوڑیں گے بلکہ ہماری عقل اور ہمارا دل حکم دے گا تو چھوڑیں گے۔ان کی یہ بات اورمزید ان کا یہ کہنا’’ اور نہ ہی تمہاری بات پر یقین کریں گے‘‘ بھی ان کے کفر پر اصراراپنے اباء و اجداد کی اندھی تقلید اور حضرت ہودعلیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب پر دلالت کرتا ہے۔ (تفسیرکبیر ہود تحت الایۃ: ۵۳ ۶ / ۳۶۴)