Surah Hud Ayat 6 (11:6)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَاؕ-كُلٌّ فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ 6
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو اور وہ ہرایک کے ٹھکانے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ۔ سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں موجود ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمۂ کرم پر نہ ہو اور جانتا ہے کہ کہاں ٹھہرے گا اور کہاں سپرد ہوگا سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما من دآبة فی الارض:اور زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں۔}’’دآبة‘‘ کا معنی ہے ہر وہ جانور جو زمین پر رینگ کر چلتا ہو عرف میں چوپائے کو ’’دآبة ‘‘ کہتے ہیں جبکہ ایت میں اس سے مطلقاجاندار مراد ہے لہذا انسان اور تمام حیوانات اس میں داخل ہیں۔(خازن ہود تحت الایۃ: ۶ ۲ / ۳۴۰) کسی جاندار کو رزق دینا اللہ تعالی پر واجب نہیں : علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس ایت سے یہ مراد نہیں کہ جانداروں کو رزق دینا اللہ تعالی پر واجب ہے کیونکہ اللہ تعالی اس سے پاک ہے کہ اس پر کوئی چیز واجب ہو بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ جانداروں کو رزق دینا اور ان کی کفالت کرنا اللہ تعالی نے اپنے ذمہ کرم پر لازم فرما لیا ہے اور ( یہ اس کی رحمت اور اس کا فضل ہے کہ) وہ اس کے خلاف نہیں فرماتا۔ رزق کی ذمہ داری لینے کو ’’على‘‘ کے ساتھ اس لئے بیان فرمایا تاکہ بندے کا اپنے رب عزوجل پر توکل مضبوط ہو اور اگر وہ (رزق حاصل کرنے کے) اسباب اختیار کرے تو ان پر بھروسہ نہ کر بیٹھے بلکہ اللہ تعالی ہی پر اپنا اعتماد اور بھروسہ رکھے اسباب صرف اس لئے اختیار کرے کہ اللہ تعالی نے اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اللہ تعالی فارغ رہنے والے بندے کو پسند نہیں فرماتا۔ زمین کے جانداروں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا کہ یہی غذاوں کے محتاج ہیں جبکہ اسمانی جاندار جیسے فرشتے اور حور عین یہ اس رزق کے محتاج نہیں بلکہ ان کی غذا تسبیح و تہلیل ہے۔(صاوی ہود تحت الایۃ: ۶ ۳ / ۹۰۰ ۹۰۱) {و یعلم مستقرها و مستودعها:اور وہ ہرایک کے ٹھکانے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کو جانتا ہے ۔} حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’مستقر سے مراد وہ جگہ ہے جہاں بندہ دن یا رات گزارتا ہے اور مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مرنے کے بعد دفن کیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ’’مستقر سے مراد ماوں کے رحم اور مستودع سے مراد وہ جگہ ہے جہاں موت ائے گی۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مستقر سے مراد جنت یا دوزخ ہے اور مستودع سے مراد قبر ہے۔ (خازن ہود تحت الایۃ: ۶ ۲ / ۳۴۰-۳۴۱) {كل فی كتب مبین:سب کچھ ایک صاف بیان کرنے والی کتاب میں موجود ہے۔} یعنی اس ایت میں جو جانداروں ان کے رزق ان کے ٹھہرنے اور سپرد کئے جانے کی جگہ کا ذکر ہوا یہ سب بیان کرنے والی کتاب یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے۔ معلوم ہوا کہ لوح محفوظ میں سب جانداروں کے رزق ان کی جگہوں ان کے زمانے اور احوال کی تفصیل مذکور ہے۔(صاوی ہود تحت الایۃ: ۶ ۳ / ۹۰۱) ہر چیزکو لوح محفوظ میں لکھنے کی حکمت: خیال رہے کہ ہر چیز کا لوح محفوظ میں لکھا جانا اس لئے نہیں کہ اللہ تعالی کو اپنے بھول جانے کا خطرہ تھا لہذا لکھ لیا کیونکہ بھول جانا اللہ تعالی کیلئے محال ہے بلکہ اس لئے لکھاہے تاکہ لوح محفوظ دیکھنے والے بندے اس پر اطلاع پائیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوح محفوظ پر نظر رکھتے ہیں انہیں بھی ہر ایک کے مستقر اور مستودع کی خبر ہے کیونکہ یہ سب لوح محفوظ میں تحریر ہے اور لوح محفوظ ان کے علم میں ہے۔ لوح محفوظ کو مبین اس لئے فرمایا گیا کہ و ہ خاص بندوں پر علوم غیبیہ بیان کردیتی ہے۔