Surah Hud Ayat 62 (11:62)
Hud · Juz 12 · Makki
قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ 62
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariانہوں نے کہا: اے صا لح! اس سے پہلے تم ہمارے درمیان ایسے تھے کہ تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں ۔ کیا تم ہمیں اُن کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے اور بیشک جس کی طرف تم ہمیں بلارہے ہو اس کی طرف سے تو ہم بڑے دھوکے میں ڈالنے والے شک میں ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبولے اے صا لح اس سے پہلے تو تم ہم میں ہونہار معلوم ہوتے تھے کیا تم ہمیں اس سے منع کرتے ہو کہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کو پوجیں اور بیشک جس بات کی طرف ہمیں بلاتے ہو ہم اس سے ایک بڑے دھوکہ ڈالنے والے شک میں ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{قالوا:انہوں نے کہا۔} جب حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم کے سامنے پیغام توحید پیش کیا تو انہوں نے جواب دیا ’’ اے صا لح! علیہ الصلوۃ والسلام اس تبلیغ سے پہلے تم توہمارے درمیان ایسے تھے کہ ہمیں تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں اور ہم امید کرتے تھے کہ تم ہمارے سردار بنو گے کیونکہ تم کمزوروں کی مدد کرتے اور فقیروں پر سخاوت کرتے تھے لیکن جب تم نے توحید کی دعوت دی اور بتوں کی برائیاں بیان کیں تو قوم کی امیدیں تم سے ختم ہوگئیں۔ ان لوگوں نے مزید یہ کہا کہ کیا تم ہمیں ان بتوں کی عبادت کرنے سے منع کرتے ہو جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے اور بیشک جس توحید کی طرف تم ہمیں بلارہے ہو اس کی طرف سے تو ہم بڑے دھوکے میں ڈالنے والے شک میں ہیں۔(تفسیر کبیر ہود تحت الایۃ: ۶۲ ۶ / ۳۶۸ خازن ہود تحت الایۃ: ۶۲ ۲ / ۳۵۹ ملتقطا)