Surah Hud Ayat 66 (11:66)
Hud · Juz 12 · Makki
فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِىٕذٍؕ-اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ 66
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariپھر جب ہمارا حکم آیا توہم نے صا لح اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو اپنی رحمت کے ذریعے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بچالیا ۔ بیشک تمہارا رب بڑی قوت والا، غلبے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanپھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے صا لح اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بیشک تمہارا رب قوی عزت والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فلما جآء امرنا:پھر جب ہمارا حکم آیا ۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قوم ثمود پر اللہ تعالی کے عذاب کاحکم ایا تو اللہ تعالی نے اپنے فضل اور رحمت سے حضرت صالح علیہ الصلوۃ والسلام اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس عذاب اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا۔ (تفسیر طبری ہود تحت الایۃ: ۶۶ ۷ / ۶۴) {و اخذ الذین ظلموا الصیحة:اور ظالموں کو چنگھاڑنے پکڑ لیا۔} اس ایت میں قوم ثمود پر انے والے عذاب کی کیفیت کا بیان ہے سورہ اعراف میں ان پر انے والے عذاب کی کیفیت اس طرح بیان ہوئی کہ ’’فاخذتهم الرجفة فاصبحوا فی دارهم جثمین‘‘ (اعراف:۷۸) ترجمہ کنزالعرفان: تو انہیں زلزلے نے پکڑ لیا تو وہ صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ اور یہاں اس طرح بیان ہوئی کہ ’’اور ظالموں کو چنگھاڑ نے پکڑ لیا تو وہ صبح کے وقت اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے ۔‘‘ان دونوں کیفیتوں میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ پہلے ہولناک چیخ کی اواز ائی اور اس کے بعد زلزلہ پیدا ہوا اس لئے قوم ثمود کی ہلاکت کو چیخ اور زلزلہ دونوں میں سے کسی کی طرف بھی منسوب کیا جا سکتا ہے۔ { كان لم یغنوا فیها:گویا وہ کبھی یہاں رہتے ہی نہ تھے۔} یعنی عذاب نازل ہونے کے بعد ان کا حال یہ ہوا کہ گویا وہ کبھی اپنے شہروں میں بسے ہی نہ تھے اور وہ زندہ تھے ہی نہیں اے لوگو! سن لو قوم ثمود نے اللہ تعالی کی وحدانیت اور ا س کی نشانیوں کا انکار کیا (جس کے نتیجے میں ان کا یہ انجام ہوا تو تمہیں چاہئے کہ ان کے انجام سے عبرت حاصل کرو اور ان جیسے افعال کرنے سے بچو تاکہ تم ان کی طرح کے عذاب میں مبتلا ہونے سے بچ جاو)۔