Surah Hud Ayat 84 (11:84)
Hud · Juz 12 · Makki
وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ 84
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا :اے میری قوم !اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہاراکوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ بیشک میں تمہیں خوشحال دیکھ رہا ہوں اور بیشک مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و الى مدین اخاهم شعیبا:اور مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو بھیجا۔} اس سورت میں ذکر کئے گئے واقعات میں سے یہ چھٹا واقعہ ہے مدین حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک بیٹے کا نام ہے بعد میں حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کے قبیلے کا نام مدین پڑ گیا اور اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے مدین نے اس شہر کی بنیاد ڈالی تھی۔ ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالی کی وحدانیت کی دعوت دیں اسی لئے حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے مدین والوں کو سب سے پہلے یہ فرمایا ’’اے میری قوم ! اللہ تعالی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہاراا ور کوئی معبود نہیں۔ توحید کی دعوت دینے کے بعد انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو یہ حکم ہوتا ہے کہ جو کام زیادہ اہمیت کا حامل ہو پہلے اس کی دعوت دیں پھر ا س کے بعد جس کی اہمیت ہو اس کی دعوت دیں۔ کفر کے بعد چونکہ مدین والوں کی سب سے بری عادت یہ تھی کہ وہ خریدو فروخت کے دوران ناپ تول میں کمی کرتے تھے جب کوئی شخص ان کے پاس اپنی چیز بیچنے اتا توان کی کوشش یہ ہوتی کہ وہ تول میں اس چیزکو جتنا زیادہ لے سکتے ہوں اتنا لے لیں اور جب وہ کسی کو اپنی چیز فروخت کرتے تو ناپ اور تول میں کمی کر جاتے اس طرح وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے میں مصروف تھے۔ اس لئے حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں یہ بری عادت چھوڑنے کی دعوت دی اور فرمایا ’’ناپ اور تول میں کمی نہ کرو۔ اس کے بعد فرمایا ’’بیشک میں تمہیں خوشحال دیکھ رہا ہوں اور ایسے حال میں تو آدمی کو چاہیے کہ وہ نعمت کی شکر گزاری کرے اور دوسروں کو اپنے مال سے فائدہ پہنچائے نہ کہ ان کے حقوق میں کمی کرے ایسی حالت میں اس عادت سے اندیشہ ہے کہ کہیں اس خوشحالی سے محروم نہ کردیئے جائو اگر تم ناپ تول میں کمی سے باز نہ ائے توبیشک مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے کہ جس سے کسی کو رہائی میسر نہ ہو اور سب کے سب ہلاک ہوجائیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس دن کے عذاب سے عذاب آخرت مراد ہو۔ (تفسیر کبیر ہود تحت الایۃ: ۸۴ ۶ / ۳۸۴ مدارک ہود تحت الایۃ: ۸۴ ص۵۰۸-۵۰۹ ملتقطا) نوٹ:سورہ اعراف کی ایت نمبر 85 تا 93 میں حضرت شعیب علیہ الصلوۃ والسلام کے قوم مدین کے ساتھ معاملات کی بعض تفصیلات گزر چکی ہیں۔