Surah Yusuf Ayat 105 (12:105)
Joseph · Juz 13 · Makki
وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ 105
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور آسمانوں اور زمین میں کتنی نشانیاں ہیں جن کے پاس سے گزرجاتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کتنی نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں کہ لوگ ان پر گزرتے ہیں اور ان سے بے خبر رہتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و كاین من ایة:اور کتنی نشانیاں ہیں ۔} اسمانی نشانیوں سے مراد اللہ عزوجل اور اس کی قوت و قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیاں یعنی اسمان کا وجود سورج چاند اور ستارے ہیں اور زمینی نشانیوں سے ہلاک شدہ امتوں کے آثار مراد ہیں ۔ ایت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ان لوگوں کے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے منہ موڑنے پر اپ تعجب نہ کریں کیونکہ ان لوگوں کا اللہ تعالی کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیوں کا مشاہدہ کرنے کے باوجود ان سے منہ پھیرلینا اور غورو فکر کر کے عبرت حاصل نہ کرنازیادہ عجیب ہے۔ (مدارک یوسف تحت الایۃ: ۱۰۵ ص۵۴۷ صاوی یوسف تحت الایۃ: ۱۰۵ ۳ / ۹۸۴ ملتقطا) {و ما یؤمن اكثرهم بالله:اور ان میں اکثر وہ ہیں جو اللہ پر یقین نہیں کرتے۔} جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت مشرکین کے رد میں نازل ہوئی کیونکہ وہ اللہ تعالی کے خالق اور رازق ہونے کا اقرار کرنے کے باوجود بت پرستی کرکے غیروں کو عبادت میں اللہ تعالی کا شریک کرتے تھے۔ (مدارک یوسف تحت الایۃ: ۱۰۶ ص۵۴۷)