Surah Yusuf Ayat 111 (12:111)
Joseph · Juz 13 · Makki
لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِؕ-مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰـكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ 111
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ان رسولوں کی خبروں میں عقل مندوں کیلئے عبرت ہے ۔ یہ (قرآن) کوئی ایسی بات نہیں جو خود بنالی جائے لیکن (یہ قرآن) ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے تھیں اور یہ ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک ان کی خبروں سے عقل مندوں کی آنکھیں کھلتی ہیں یہ کوئی بناوٹ کی بات نہیں لیکن اپنے سے اگلے کاموں کی تصدیق ہے اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کے لیے ہدایت و رحمت۔
Tafseer (Urdu)
{لقد كان فی قصصهم:بیشک ان رسولوں کی خبروں میں ۔} یعنی بے شک انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی اور ان کی قوموں کی خبروں میں عقل مندوں کیلئے عبرت ہے جیسے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعہ سے بڑے بڑے نتائج نکلتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ صبر کا نتیجہ سلامت و کرامت ہے اور ایذا رسانی و بدخواہی کا انجام ندامت ہے اور اللہ تعالی پر بھروسہ رکھنے والا کامیاب ہوتا ہے ۔ بندے کوسختیوں کے پیش آنے سے مایوس نہ ہونا چاہئے ر حمت الہی دست گیری کرے تو کسی کی بد خواہی کچھ نہیں کرسکتی۔ اس کے بعد قرآن پاک کے بارے ارشاد ہوتا ہے کہ یہ قران کوئی ایسی بات نہیں کہ جسے کسی انسان نے اپنی طرف سے بنالیا ہو کیونکہ اس کا عاجز کر دینے والا ہونا اس کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے کو قطعی طور پر ثابت کرتا ہے البتہ یہ قران اللہ تعالی کی کتابوں توریت اور انجیل کی تصدیق کرنے والا ہے اور قران میں حلال حرام حدود و تعزیرات واقعات نصیحتوں اور مثالوں وغیرہ ہر چیز کا مفصل بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے کیونکہ وہی اس سے نفع حاصل کرتے ہیں ۔ (مدارک یوسف تحت الایۃ: ۱۱۱ ص۵۴۸ خازن یوسف تحت الایۃ: ۱۱۱ ۳ / ۵۰-۵۱ ملتقطا)