Surah Yusuf Ayat 110 (12:110)
Joseph · Juz 13 · Makki
حَتّٰۤى اِذَا اسْتَایْــٴَـسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُؕ-وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ 110
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا ہے تو اس وقت ان کے پاس ہماری مدد آگئی تو جسے ہم نے چاہا اسے بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھیرا نہیں جاتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanیہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی اور لوگ سمجھے کہ رسولوں نے ان سے غلط کہا تھا اس وقت ہماری مدد آئی تو جسے ہم نے چاہا بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے پھیرا نہیں جاتا۔
Tafseer (Urdu)
{حتى اذا استایــٴـس الرسل:یہاں تک کہ جب رسولوں کو ظاہری اسباب کی امید نہ رہی۔}یعنی لوگوں کو چاہئے کہ اللہ تعالی کے عذاب میں تاخیر ہونے اور عیش و آسائش کے دیر تک رہنے پر مغرور نہ ہوجائیں کیونکہ پہلی امتوں کو بھی بہت مہلتیں دی جاچکی ہیں یہاں تک کہ جب ان کے عذابوں میں بہت تاخیر ہوئی اور ظاہری اسباب کے اعتبار سے رسولوں کو اپنی قوموں پر دنیا میں ظاہری عذاب آنے کی امید نہ رہی تو قوموں نے گمان کیا کہ رسولوں نے انہیں جو عذاب کے وعدے دیئے تھے وہ پورے ہونے والے نہیں تو اس وقت اچانک انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور ان پر ایمان لانے والوں کے لئے ہماری مدد آگئی اور ہم نے اپنے بندوں میں سے اطاعت کرنے والے ایمانداروں کو بچالیا اور مجرمین اس عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ (ابوسعود یوسف تحت الایۃ: ۱۰۹ ۳ / ۱۴۲-۱۴۳ مدارک یوسف تحت الایۃ: ۱۰۹ ص۵۴۸ ملتقطا)