Surah Yusuf Ayat 19 (12:19)
Joseph · Juz 12 · Makki
وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗؕ-قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌؕ-وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةًؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ایک قافلہ آیا تو انہوں نے اپنا پانی لانے والا آدمی بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈالا ۔ اس پانی لانے والے نے کہا: کیسی خوشی کی بات ہے ،یہ تو ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے سامانِ تجارت قرار دے کر چھپالیا اور اللہ جانتا ہے جو وہ کررہے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ایک قافلہ آیا انہوں نے اپنا پانی لانے والا بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈالا بولا آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک لڑکا ہے اور اسے ایک پونجی بناکر چھپالیا اور اللہ جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و جآءت سیارة:اور ایک قافلہ آیا۔} ایک قافلہ جو مدین سے مصر کی طرف جارہا تھا وہ راستہ بہک کر اس جنگل کی طرف ا نکلا جہاں آبادی سے بہت دور یہ کنواں تھا اور اس کا پانی کھاری تھا مگر حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے میٹھا ہوگیا جب وہ قافلہ والے اس کنوئیں کے قریب اترے تو انہوں نے اپنا پانی لانے والا کنویں کی طرف بھیجا اس کا نام مالک بن ذعر خزاعی تھا اور یہ شخص مدین کا رہنے والا تھا جب وہ کنوئیں پر پہنچا اور اس نے اپنا ڈول ڈالا تو حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ ڈول پکڑلیا اور اس میں لٹک گئے مالک نے ڈول کھینچا تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام کنویں سے باہر تشریف لے ائے۔ جب اس نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کا عالم افروز حسن دیکھا تو نہایت خوشی میں آکر اپنے ساتھیوں کو مژدہ دیا کہ آہا کیسی خوشی کی بات ہے یہ تو ایک بڑا حسین لڑکا ہے۔ مالک بن ذعر اور اس کے ساتھیوں نے انہیں سامان تجارت قرار دے کر چھپالیا تاکہ کوئی اس میں شرکت کا دعوی نہ کر دے۔ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی جو اس جنگل میں اپنی بکریاں چراتے تھے اور وہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی نگرانی بھی کررہے تھے آج جو انہوں نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو کنوئیں میں نہ دیکھا تو وہ انہیں تلاش کرتے ہوئے قافلہ میں پہنچے وہاں انہوں نے مالک بن ذعر کے پاس حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا تو وہ اس سے کہنے لگے کہ یہ غلام ہے ہمارے پاس سے بھاگ آیا ہے کسی کام کا نہیں ہے اور نافرمان ہے اگر خرید لو تو ہم اسے سستا بیچ دیں گے اور پھر اسے کہیں اتنی دور لے جانا کہ اس کی خبر بھی ہمارے سننے میں نہ آئے۔ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ان کے خوف سے خاموش کھڑے رہے اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے کچھ نہ فرمایا۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۱۹ ۳ / ۱۰ ابو سعود یوسف تحت الایۃ: ۱۹ ۳ / ۸۹ ملتقطا)