Surah Yusuf Ayat 20 (12:20)
Joseph · Juz 12 · Makki
وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍۚ-وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ 20
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بھائیوں نے بہت کم قیمت چند درہموں کے بدلے میں اسے بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رغبت نہ تھی۔
Tafseer (Urdu)
{و شروه:اور بھائیوں نے اسے بیچ ڈالا۔} حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائیوں نے انہیں مالک بن ذعر خزاعی کے ہاتھ بہت کم قیمت والے چند درہموں کے بدلے بیچ دیا ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ وہ بیس درہم تھے۔ اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی پہلے سے ہی ان میں کچھ رغبت نہ رکھتے تھے۔ پھر مالک بن ذعر اور اس کے ساتھی حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو مصر میں لائے اس زمانے میں مصر کا بادشاہ ریان بن ولید بن نزدان عملیقی تھا اور اس نے اپنی عنان سلطنت قطفیر مصری کے ہاتھ میں دے رکھی تھی تمام خزائن اسی کے تحت تصرف تھے اس کو عزیز مصر کہتے تھے اور وہ بادشاہ کا وزیر اعظم تھا جب حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام مصر کے بازار میں بیچنے کے لئے لائے گئے تو ہر شخص کے دل میں آپ کی طلب پیدا ہوئی اور خریداروں نے قیمت بڑھانا شروع کی یہاں تک کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے وزن کے برابر سونا اتنی ہی چاندی اتنا ہی مشک اور اتنا ہی ریشم قیمت مقرر ہوئی اور عمر شریف اس وقت تیرہ یا سترہ سال کی تھی۔ عزیز مصر نے اس قیمت پر آپ کو خرید لیا اور اپنے گھر لے آیا۔ دوسرے خریدار اس کے مقابلہ میں خاموش ہوگئے۔ (صاوی یوسف تحت الایۃ: ۲۰ ۳ / ۹۴۹ خازن یوسف تحت الایۃ: ۲۰ ۳ / ۱۱ ملتقطا)