Surah Yusuf Ayat 29 (12:29)
Joseph · Juz 12 · Makki
یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاٚ-وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ ۚۖ-اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِـٕیْنَ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ ۔بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاے یوسف تم اس کا خیال نہ کرو اور اے عورت تو اپنے گناہ کی معافی مانگ بیشک تو خطاواروں میں ہے۔
Tafseer (Urdu)
{یوسف: اے یوسف!} جب عزیز مصر کے سامنے زلیخا کی خیانت اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی براء ت ثابت ہو گئی تو عزیز نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف متوجہ ہو کر اس طرح معذرت کی ’’اے یوسف! تم اس بات سے درگزر کرو اور اس پر مغموم نہ ہو بے شک تم پاک ہو ۔ اس کلام سے یہ بھی مطلب تھا کہ اس کا کسی سے ذکر نہ کرو تاکہ چرچا نہ ہو اور شہرہ عام نہ ہوجائے۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۲۹ ۳ / ۱۶) حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی برات کی مزید علامتیں : اس ایت کے علاوہ بھی حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی برات کی بہت سی علامتیں موجود تھیں ایک تو یہ کہ کوئی شریف طبیعت انسان اپنے محسن کے ساتھ اس طرح کی خیانت روا نہیں رکھتا اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام اچھے اخلاق کی بلندیوں پر فائز ہوتے ہوئے کس طرح ایسا کرسکتے تھے۔ دوسری یہ کہ دیکھنے والوں نے آپ کو بھاگتے آتے دیکھا اور طالب کی یہ شان نہیں ہوتی بلکہ وہ درپے ہوتا ہے اگے نہیں بھاگتا ۔بھاگتا وہی ہے جو کسی بات پر مجبور کیا جائے اور وہ اسے گوارا نہ کرے۔ تیسری یہ کہ عورت نے انتہا درجہ کا سنگار کیا تھا اور وہ غیر معمولی زیب و زینت کی حالت میں تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رغبت و اہتمام محض اس کی طرف سے تھا ۔ چوتھی یہ کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کا تقوی و طہارت جو ایک دراز مدت تک دیکھا جاچکا تھا اس سے آپ کی طرف ایسے برے فعل کی نسبت کسی طرح قابل اعتبار نہیں ہوسکتی تھی ۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۲۷ ۲۹ ۳ / ۱۶) {و استغفری لذنبك :اور اے عورت! تو اپنے گناہ کی معافی مانگ ۔} یعنی عزیز مصر زلیخا کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا ’’ اے عورت! تو اللہ تعالی سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگ جو تو نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام پر تہمت لگائی حالانکہ وہ اس سے بری ہیں۔ اپنے شوہر کے ساتھ خیانت کا ارادہ کرنے کی وجہ سے بیشک تو ہی خطاکاروں میں سے ہے۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۲۷ ۲۹ ۳ / ۱۶)