Surah Yusuf Ayat 30 (12:30)
Joseph · Juz 12 · Makki
وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖۚ-قَدْ شَغَفَهَا حُبًّاؕ-اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا: عزیز کی بیوی اپنے نوجوان کا دل لبھانے کی کوشش کرتی ہے، بیشک ان کی محبت اس کے دل میں سماگئی ہے، ہم تو اس عورت کو کھلی محبت میں گم دیکھ رہے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور شہر میں کچھ عورتیں بولیں کہ عزیز کی بی بی اپنے نوجوان کا دل لبھاتی ہے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی ہے ہم تو اسے صر یح خود رفتہ پاتے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{و قال نسوة فی المدینة:اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا۔} عزیز مصر نے اگرچہ اس قصہ کو بہت دبایا لیکن یہ خبر چھپ نہ سکی اور اس کا چرچا اورشہرہ ہو ہی گیا۔ شہر میں شرفاء مصر کی عورتیں زلیخا اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں باتیں کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ عزیز کی بیوی زلیخا اپنے نوجوان کا دل لبھانے کی کوشش کرتی ہے بیشک ان کی محبت اس کے دل میں سماگئی ہے ہم تو اس عورت کو کھلی محبت میں گم دیکھ رہے ہیں کہ اس دیوانے پن میں اس کو اپنے ننگ و ناموس اور پردے و عفت کا لحاظ بھی نہ رہا۔(خازن یوسف تحت الایۃ: ۳۰ ۳ / ۱۶-۱۷ ملخصا)