Surah Yusuf Ayat 59 (12:59)
Joseph · Juz 13 · Makki
وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْۚ-اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ 59
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب یوسف نے ان کا سامان انہیں مہیا کردیا تو فرمایا کہ اپنا سوتیلا بھائی میرے پاس لے آؤ، کیا تم یہ بات نہیں دیکھتے کہ میں ناپ مکمل کرتا ہوں اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ان کا سامان مہیا کردیا کہا اپنا سوتیلا بھائی میرے پاس لے آؤ کیا نہیں دیکھتے کہ میں پورا ماپتا ہوں اور میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں ۔
Tafseer (Urdu)
{و لما جهزهم بجهازهم:اور جب ان کا سامان انہیں مہیا کردیا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے ان بھائیوں کی بہت عزت کی اور بڑی خاطر و مدارات سے ان کی میزبانی فرمائی ان میں سے ہر ایک کا اونٹ غلے سے بھر دیا اور سفر کے دوران جس چیز کی ضرورت درپیش ہو سکتی تھی وہ بھی عطا کر دی۔ ‘‘ جب حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا سامان انہیں مہیا کر دیا تو ان سے فرمایا ’’تم اپنے جس بھائی کو والد محترم کے پاس چھوڑ ائے ہو اسے میرے پاس لے او کیا تم یہ بات نہیں دیکھتے کہ میں ناپ مکمل کرتا ہوں اور اس میں کوئی کمی نہیں کرتا اگرتم اس کو لے آؤ گے تو ایک اونٹ غلہ اس کے حصہ کا اور زیادہ دوں گا اور کیا تم دیکھتے نہیں کہ میں سب سے بہتر مہمان نواز ہوں اور اگر تم اس بھائی کو میرے پاس نہیں لاو گے جو تمہارے والد کے پاس موجود ہے تو تمہارے لیے میرے پاس کوئی غلہ نہیں اور نہ تم غلہ حاصل کرنے کے لئے میرے قریب پھٹکنا۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۵۹-۶۰ ۳ / ۲۹-۳۰) { قالوا:انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائیوں نے کہا: ہم اس کے باپ سے اس کے متعلق ضرور مطالبہ کریں گے اور خوب کوشش کریں گے یہاں تک کہ ہم اسے لے ائیں اور بیشک ہم ضرور یہ کام کریں گے جس کا اپ نے ہمیں حکم دیاہے۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۶۱ ۳ / ۳۰)