Surah Yusuf Ayat 66 (12:66)
Joseph · Juz 13 · Makki
قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْۚ-فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ 66
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیعقوب نے فرمایا: میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے اللہ کا یہ عہد نہ دیدو کہ تم ضرور اسے (واپس) لے کر آؤ گے سوائے اس کے کہ تم (کسی بڑی مصیبت میں ) گھر جاؤ پھر انہوں نے یعقوب کو عہددیدیا تو یعقوب نے فرمایا: جو ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہا میں ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھے اللہ کا یہ عہد نہ دے دو کہ ضرور اسے لے کر آ ؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ پھر جب انہوں نے یعقوب کو عہد دے دیا کہااللہ کا ذمہ ہے ان باتوں پر جو ہم کہہ رہے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{قال:فرمایا۔} حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا ’’میں اس وقت تک ہر گز بنیامین کو تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم اللہ تعالی کی قسم کھا کر یہ عہد نہ دو کہ تم ضرور اسے واپس بھی لے کر او گے سوائے اس کے کہ تمہارا انتقال ہو جائے یا تم مغلوب ہو جاو اور بنیامین کو لے کر آنا تمہاری طاقت سے باہر ہوجائے۔ جب انہوں نے حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالی کی قسم کھا کر عہد دے دیا تو حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا’’ جو ہم کہہ رہے ہیں اس پر اللہ عزوجل نگہبان ہے۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۶۶ ۳ / ۳۱) ظاہری اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں : علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اس سے معلوم ہو اکہ ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالی پر بھروسہ کرنا توکل کے خلاف نہیں لہذا ہر انسا ن کو چاہئے کہ وہ اس عالم میں موجود معتبر اسباب اختیار کرے اور صرف ان اسباب کو اختیار کرنے اور ان ہی پر بھروسہ کرنے کو کافی نہ سمجھے بلکہ اپنے دل کو اللہ تعالی اور ا س کی تقدیر کی طرف متوجہ رکھے اللہ تعالی پر اور اس کی تدبیر پر اعتماد رکھے اور اس کے سوا ہر چیز سے اپنی امید ختم کر دے۔ (روح البیان یوسف تحت الایۃ: ۶۶ ۴ / ۲۹۱-۲۹۲) امام محمد غزالی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’اسباب ترک کر دینا اللہ تعالی کی حکمت کے خلاف اور اس کے طریقے سے جہالت ہے اور جب ادمی اسباب کی بجائے اللہ تعالی پر بھروسہ رکھے اور یوں وہ اللہ تعالی کے طریقے کے مطابق عمل کرے تو یہ بات توکل کے خلاف نہیں ۔ (احیاء علوم الدین کتاب التوحید والتوکل الفن الاول فی جلب النافع الدرجۃ الثانیۃ ۴ / ۳۲۹)