Surah Yusuf Ayat 67 (12:67)
Joseph · Juz 13 · Makki
وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍؕ-وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُۚ-وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ 67
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور فرمایا: اے میرے بیٹو! ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا، میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا ،حکم تو اللہ ہی کا چلتا ہے، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کہا اے میرے بیٹو ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروا زوں سے جانا اور میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا حکم تو سب اللہ ہی کا ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ چاہیے۔
Tafseer (Urdu)
{و قال:اور فرمایا۔}جب حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے مصر جانے کے ارادے سے نکلے تواپ علیہ الصلوۃ والسلام نے سب بیٹوں کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا’’اے میرے بیٹو! مصر میں ایک دروازے سے نہ داخل ہونا بلکہ جدا جدا دروازوں سے جانا تاکہ بری نظر لگنے سے محفوظ رہو۔(خازن یوسف تحت الایۃ: ۶۷ ۳ / ۳۱) یاد رہے کہ پہلی مرتبہ جب یہ لوگ مصر گئے تھے تو اس وقت حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نہیں فرمایا تھا کیونکہ اس وقت تک کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ یہ سب بھائی اور ایک باپ کی اولاد ہیں لیکن اب چونکہ جان چکے تھے اس لئے بری نظر لگ جانے کا احتمال تھا اس وجہ سے آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے سب کوعلیحدہ علیحدہ ہو کر داخل ہونے کا حکم دیا۔(صاوی یوسف تحت الایۃ: ۶۷ ۳ / ۹۶۸-۹۶۹) مصیبتوں سے بچنے کی تدبیریں اختیار کرنا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا طریقہ ہے: اس سے معلوم ہوا کہ آفتوں اور مصیبتوں سے نجات حاصل کرنے کی تدبیر کرنا اور مناسب احتیاطیں اختیار کرنا انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا طریقہ ہےسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم افتوں اور مصیبتوں سے بچنے کے لئے خود بھی مناسب تدبیریں فرمایا کرتے اور دوسروں کوبھی بتایا کرتے تھے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم امام حسن اورامام حسین رضی اللہ تعالی عنہما پر یہ کلمات پڑھ کر پھونکا کرتے اور فرماتے ’’تمہارے جد امجد بھی حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما الصلوۃ والسلام پر یہ کلمات (پڑھ کر) دم کیا کرتے تھے ’’اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من کل شیطان وہامۃ ومن کل عین لامۃ‘‘(بخاری کتاب احادیث الانبیاء ۱۱-باب ۲ / ۴۲۹ الحدیث: ۳۳۷۱) اور حضرت عابس جہنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میں تمہیں وہ کلمات نہ بتاوں جو (شریر جنات اور نظر بد سے) اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنے میں سب سے افضل ہیں انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیوں نہیں (اپ ضرور بتائیے) ارشاد فرمایا ’’وہ کلمات یہ دونوں سورتیں ہیں (1) قل اعوذ برب الفلق۔ (2) قل اعوذ برب الناس ۔(سنن نسائی کتاب الاستعاذۃ ۱-باب ص۸۶۲ الحدیث: ۵۴۴۲) بری نظر سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے: نیزیہ بھی معلوم ہوا کہ بری نظر سے بچنے کے لئے کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اس سے نقصان پہنچ سکتا ہےبری نظر سے متعلق حدیث پاک میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’نظرحق ہے اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کر سکتی ہے تو وہ نظر ہے اور جب تم سے (نظر کے علاج کے لئے) غسل کرنے کا کہا جائے تو غسل کر لو۔ (مسلم کتاب السلام باب الطب والمرض والرقی ص۱۲۰۲ الحدیث: ۴۲(۲۱۸۸)) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک بری نظر مرد کو قبر میں اور اونٹ کو ہنڈیا میں پہنچا دیتی ہے۔ (مسند الشہاب ۶۷۸- ان العین لتدخل الرجل القبر ۲ / ۱۴۰ الحدیث: ۱۰۵۹) بری نظر کا علاج: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جنات اور انسانوں کی بری نظر سے پنا ہ مانگا کرتے تھے یہاں تک کہ سورہ فلق اور سورہ ناس نازل ہوئیں جب یہ سورتیں نازل ہوئیں تو اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان دونوں کو اختیار فرما لیا اور دیگر دعاوں کو چھوڑ دیا۔ (ترمذی کتاب الطب باب ما جاء فی الرقیۃ بالمعوذتین ۴ / ۱۳ الحدیث: ۲۰۶۵) مفتی احمد یارخاں نعیمی رحمۃاللہ تعالی علیہ ارشا دفرماتے ہیں کہ بد نظر ی سے بچنے کے لئے یہ ایت کریمہ (بھی) اکسیر ہے’’و ان یكاد الذین كفروا لیزلقونك بابصارهم لما سمعوا الذكر و یقولون انه لمجنون‘‘(القلم ۵۱ مر اۃ المناجیح کتاب الطب والرقی الفصل الاول ۶ / ۱۹۵ تحت الحدیث: ۴۳۲۶) {و ما اغنی عنكم من الله من شیء:اور میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا ۔} یعنی جس چیز کی طرف میں نے تمہیں اشارہ دیا وہ اگر اللہ تعالی نے تمہارے لئے مقدر فرما دی ہے تو میں تمہیں اس سے بچا نہیں سکتا کیونکہ تدبیر تقدیر کو نہیں ٹال سکتی میں نے اپنا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کر دیا ہے میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور اپنی اس بات پر بھروسہ نہیں کرتا جس کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے کیونکہ توکل کے ساتھ اسباب اختیار کرنا اسباب چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔ (بیضاوی یوسف تحت الایۃ: ۶۷ ۳ / ۲۹۹ صاوی یوسف تحت الایۃ: ۶۷ ۳ / ۹۶۹ ملتقطا) اس ایت سے بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالی پر توکل کے ساتھ اسباب اختیار کرنے سے توکل میں کوئی فرق نہیں پڑتا وہ اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔