Surah Yusuf Ayat 68 (12:68)
Joseph · Juz 13 · Makki
وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْؕ-مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَاؕ-وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ 68
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب وہ وہیں سے داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا، وہ انہیں اللہ سے کچھ بچا نہ سکتے تھے البتہ یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی اور بیشک وہ صاحب علم تھا کیونکہ ہم نے اسے تعلیم دی تھی مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا وہ کچھ انہیں اللہ سے بچا نہ سکتا ہاں یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی اور بیشک وہ صاحبِ علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔
Tafseer (Urdu)
{و لما دخلوا:اور جب وہ داخل ہوئے۔} ایت کا معنی یہ ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹوں کا مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہونا ان سے وہ چیز دور نہیں کرسکتا جو اللہ تعالی نے ان کے لئے مقدر فرما دی ہے اللہ تعالی کی تقدیر کو دیکھا جائے تو ان کا ایک ہی دروازے سے داخل ہونا یا مختلف دروازوں سے داخل ہونا دونوں برابر ہے ان کا مختلف دروازوں سے جانا اگرچہ اللہ تعالی کی تقدیر کو نہیں ٹال سکتا لیکن بد نظری سے بچنے کی یہ تدبیر اختیار کرنا حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے دل کی ایک تمنا تھی جو انہوں نے پوری کر لی ۔حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام صاحب علم تھے کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں تعلیم دی تھی مگر اکثر لوگ وہ علم نہیں جانتے جو اللہ تعالی اپنے چنے ہوئے بندوں کو دیتا ہے۔(جلالین مع صاوی یوسف تحت الایۃ: ۶۸ ۳ / ۹۶۹)