Surah Yusuf Ayat 8 (12:8)
Joseph · Juz 12 · Makki
اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌؕ-اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِ ﹰﭕ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیاد کرو جب بھائی بولے :بیشک یوسف اور اس کا سگا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک جماعت ہیں بیشک ہمارے والد کھلی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب بولے کہ ضرور یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں بیشک ہمارے باپ صراحۃً ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
Tafseer (Urdu)
{اذ قالوا:یاد کرو جب انہوں نے کہا۔} حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائیوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے سگے بھائی بنیامین کی طرف بہت مائل ہیں اور ان پر بڑی شفقت فرماتے ہیں تو کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! یوسف اور اس کا سگا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اوروہ انہیں محبت میں ہم پر ترجیح دیتے ہیں حالانکہ وہ دونوں چھوٹے ہیں اور حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جبکہ ہم دس مرد ہیں مضبوط ہیں زیادہ کام آسکتے ہیں زیادہ فائدہ پہنچاسکتے ہیں لہذا ہم اپنی کثیر تعداد اور زیادہ فائدہ مند ہونے کی وجہ سے ان دونوں بھائیوں کی بجائے محبت کے زیادہ حقدار ہیں بیشک ہمارے والد ان کی کھلی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائیوں نے یہ کہہ تو دیا لیکن یہ بات ان کے خیال میں نہ آئی کہ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کے بھائی کو صرف محبت میں ان پر ترجیح دی ہے اور دلی محبت کو دور کر دینا انسان کے بس میں نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کی حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ محبت و شفقت کا سبب یہ ہو کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی والدہ ان کی چھوٹی عمر میں انتقال فرما گئی تھیں نیز شفقت کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام میں ہدایت اور اچھی صفات کی وہ نشانیاں ملاحظہ فرما لیں جو دوسرے بھائیوں میں نہ تھیں۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۸ ۳ / ۵-۶ مدارک یوسف تحت الایۃ: ۸ ص۵۲۱ ملتقطا)