Surah Yusuf Ayat 81 (12:81)
Joseph · Juz 13 · Makki
اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَۚ-وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ 81
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو: اے ہمارے باپ! بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور ہم اتنی ہی بات کے گواہ ہیں جتنی ہمیں معلوم ہے اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ پھر عرض کرو اے ہمارے باپ بیشک آپ کے بیٹے نے چوری کی اور ہم تو اتنی ہی بات کے گواہ ہوئے تھے جتنی ہمارے علم میں تھی اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے۔
Tafseer (Urdu)
{ ارجعوا الى ابیكم:تم اپنے باپ کے پاس لوٹ کر جاؤ۔} جس بھائی نے مصر میں ہی ٹھہرنے کا عزم کیا تھا ا س نے بقیہ بھائیوں سے کہا کہ تم اپنے والدحضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس لوٹ کر جاؤ اور ان سے عرض کرو: اے ہمارے باپ! بیشک آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے کی طرف چوری کی نسبت کی گئی اور ہم اتنی ہی بات کے گواہ ہیں جتنی ہمیں معلوم ہے کہ پیالہ ان کے کجاوے میں سے نکلا اور ہم غیب کے نگہبان نہ تھے اور ہمیں خبر نہ تھی کہ یہ صورت پیش آئے گی حقیقت حال اللہ عزوجل ہی جانے کہ کیا ہے اور پیالہ کس طرح بنیامین کے ساما ن سے برآمد ہوا۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۸۱ ۳ / ۳۷-۳۸ مدارک یوسف تحت الایۃ: ۸۱ ص۵۴۱ ملتقطا) {و ســٴـل القریة:اور شہر والوں سے پوچھ لیجیے۔} بھائیوں کو یہ باتیں والد صاحب سے کہنے کا حکم دینے سے ا س کا مقصد یہ تھا کہ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے ان بھائیوں پر سے تہمت اچھی طرح زائل ہو جائے کیونکہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعے میں یہ تہمت کا سامنا کر چکے تھے۔ پھر یہ لوگ اپنے والد کے پاس واپس آئے اور سفر میں جو کچھ پیش آیا تھا اس کی خبر دی اور بڑے بھائی نے جو کچھ بتادیا تھا وہ سب والد صاحب سے عرض کر دیا۔( خازن یوسف تحت الایۃ: ۸۲ ۳ / ۳۸)