Surah Yusuf Ayat 84 (12:84)
Joseph · Juz 13 · Makki
وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ 84
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یعقوب نے ان سے منہ پھیرا اور کہا: ہائے افسوس! یوسف کی جدائی پر اور یعقوب کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں تو وہ (اپنا) غم برداشت کرتے رہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ان سے منہ پھیرا اور کہا ہائے افسوس یوسف کی جدائی پر اور اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوگئیں تو وہ غصہ کھا تا رہا۔
Tafseer (Urdu)
{و تولى عنهم:اور یعقوب نے ان سے منہ پھیرا۔} یعنی حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے بنیامین کی خبرسن کر اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا اور اس وقت آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا حزن و ملال انتہا کو پہنچ گیا جب بیٹوں سے منہ پھیرا تو فرمایا ’’ ہائے افسوس! یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی جدائی پر۔ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے غم میں روتے رہے یہاں تک کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھ کی سیاہی کا رنگ جاتا رہا اور بینائی کمزور ہوگئی ۔ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام 80برس روتے رہے۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۸۴ ۳ / ۳۹) یاد رہے کہ عزیزوں کے غم میں رونا اگر تکلیف اور نمائش سے نہ ہو اور اس کے ساتھ اللہ تعالی کی بارگاہ میں شکایت و بے صبری کا مظاہرہ نہ ہو تو یہ رحمت ہے ان غم کے دنوں میں حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک پر کبھی کوئی بے صبری کاکلمہ نہ ایا تھا۔ {قالوا:بھائیوں نے کہا۔} یعنی حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائیوں نے اپنے والد محترم سے کہا ’’ اللہ کی قسم! آپ ہمیشہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کو یاد کرتے رہیں گے اور ان سے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کم نہ ہوگی یہاں تک کہ شدت غم کی وجہ سے اپ علیہ الصلوۃ والسلام مرنے کے قریب ہوجائیں گے یا فوت ہی ہوجائیں گے۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۸۵ ۳ / ۳۹)