Surah Yusuf Ayat 86 (12:86)
Joseph · Juz 13 · Makki
قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 86
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariیعقوب نے کہا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہا میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں اور مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔
Tafseer (Urdu)
{قال:یعقوب نے کہا۔} حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے بیٹوں کی بات سن کر ان سے کہا ’’ میری پریشانی اور غم کم ہو یا زیادہ میں اس کی فریاد تم سے یا اور کسی سے نہیں بلکہ اللہ عز وجل ہی سے کرتا ہوں اور اللہ تعالی اپنی رحمت اور احسان سے مجھے وہاں سے اسانی عطا کرے گا جہاں سے میرا گمان بھی نہ ہو گا۔ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام کے ا س فرمان ’’ میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں ‘‘ سے معلوم ہوا کہ غم اور پریشانی میں اللہ تعالی سے فریا دکرنا صبر کے خلاف نہیں ہاں بے صبری کے کلمات منہ سے نکالنا یا لوگوں سے شکوے کرنا بے صبری ہے۔ نیز اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان ’’اور میں اللہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام جانتے تھے کہ حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام زندہ ہیں اور ان سے ملنے کی توقع ہے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کا خواب حق ہے اور ضرور واقع ہوگا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت یعقوب علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت ملک الموت علیہ السلام سے دریافت کیا کہ تم نے میرے بیٹے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی روح قبض کی ہے انہوں نے عرض کیا : نہیں اس سے بھی آپ کو ان کی زندگانی کا اطمینان ہوا اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے فرزندوں سے فرمایا۔ (خازن یوسف تحت الایۃ: ۸۶ ۳ / ۴۰-۴۱ ملخصا)