Surah Ar Rad Ayat 3 (13:3)
The Thunder · Juz 13 · Madani
وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًاؕ-وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ 3
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑاور نہریں بنائیں اور زمین میں ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے ، وہ رات سے دن کو چھپا لیتا ہے، بیشک اس میں غور وفکر کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلا یا اور اس میں لنگر اور نہریں بنائیں اور زمین میں ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے رات سے دن کو چھپا لیتا ہے بے شک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کو۔
Tafseer (Urdu)
{و هو الذی مد الارض:اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا ۔} اس سے پہلی ایت میں اللہ تعالی نے اپنی وحدانیت اور قدرت کے کمال پر اسمانی دلائل یعنی اسمانوں کے ستونوں کے بغیر بلند ہونے اور سورج و چاند کے احوال کا ذکر فرمایا جبکہ اس ایت میں زمینی دلائل کا ذکر فرمایا ہے۔ ان دلائل کا خلاصہ یہ ہے۔ (1) اللہ تعالی نے زمین کو پانی کی سطح پر پھیلایا۔ (2) زمین میں مضبوط پہاڑ نصب فرمائے۔ (3) مخلوق کے فائدے کیلئے زمین میں نہریں جاری فرمائیں ۔ (4) زمین میں ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے یعنی سیاہ اور سفید کھٹے اور میٹھے چھوٹے اور بڑے خشکی اور باغات کے گرم اور سرد تر اور خشک وغیرہ۔ (5) اللہ تعالی دن کو رات کے اندھیرے سے اور رات کو دن کی روشنی سے چھپا دیتا ہے۔ بیشک ان عجیب و غریب صنعتوں میں غور وفکر کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں جنہیں دیکھ کر وہ سمجھ جائیں گے کہ یہ تمام آثار بنانے والے حکمت والے اور قدرت والے کے وجود پر دلالت کرتے ہیں ۔ (خازن الرعد تحت الایۃ: ۳ ۳ / ۵۲ مدارک الرعد تحت الایۃ: ۳ ص۵۴۹ ملتقطا) ایت’’ ان فی ذلك لایت لقوم یتفكرون‘‘سے معلوم ہونے والے مسائل: ا س سے دو مسئلے معلوم ہوئے (1)… سارا جہان سمجھدار کے لئے معرفت الہی کا دفتر ہے (2)… فکر اور غور و خوض اعلی درجہ کی عبادت ہے ایک ساعت کی فکر ہزار برس کے ذکر سے افضل ہے۔