Surah Ibrahim Ayat 24 (14:24)
Abraham · Juz 13 · Makki
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا تم نے نہ دیکھا کہ اللہ نے کلمہ پاک کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت ہو جس کی جڑقائم ہو اور اس کی شاخیں آسمان میں ہوں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا تم نے نہ دیکھا اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں ۔
Tafseer (Urdu)
{الم تر:کیا تم نے نہ دیکھا۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی دو ایات میں اللہ تعالی نے مومنین اور کفار کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کے ابتدائی حصے میں مذکور مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح کھجور کے درخت کی جڑیں زمین کی گہرائی میں موجود ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں اسمان میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ اللہ تعالی کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے ایسے ہی کلمہ ایمان ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل کی زمین میں ثابت اور مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں پہنچتے ہیں اور اس کے ثمرات یعنی برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں ۔( خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۲۴ ۳ / ۸۱-۸۲ ملخصا) پاکیزہ بات اور پاکیزہ درخت: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں کہ (اس ایت میں ) پاکیزہ بات سے ’’لا الـہ الا اللہ‘‘ کہنا مراد ہے اور پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ (خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۲۴ ۳ / ۸۱) پاکیزہ درخت سے متعلق اور بھی اقوال ہیں ۔ مومن مرد کی مثال درخت: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہمافرماتے ہیں ’’ہم سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ارشاد فرمایا ’’مجھے اس درخت کے بارے بتاؤ جو مرد مومن کی مثل ہے اس کے پتے نہیں گرتے اور وہ ہروقت پھل دیتا ہےحضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میرے دل میں ایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن جب میں نے یہ دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہما جیسے صحابہ خاموش ہیں تو مجھے کلام کرنا مناسب نہ لگا جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے کوئی جواب نہ دیا توحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’وہ کھجور کا درخت ہے۔ مجلس برخاست ہونے کے بعد میں نے اپنے والد ماجد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے عرض کی ’’ جب حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دریافت فرمایا تھا تو میرے دل میں آیا تھا کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تشریف فرما ہیں اور وہ کوئی جواب نہیں دے رہے تو میں بھی خاموش رہا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اگر تم بتادیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی۔ (بخاری کتاب التفسیر سورۃ ابراہیم باب کشجرۃ طیبۃ اصلہا ثابت۔۔۔ الخ ۳ / ۲۵۳ الحدیث: ۴۶۹۸) {و یضرب الله الامثال للناس:اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے۔} یعنی اللہ تعالی لوگوں کے لئے مثالیں اس لئے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لائیں کیونکہ مثالوں سے معنی اچھی طرح دل میں اتر جاتے ہیں۔ (جلالین ابراہیم تحت الایۃ: ۲۵ ص۲۰۸ خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۲۵ ۳ / ۸۲ ملتقطا)