Surah Ibrahim Ayat 30 (14:30)
Abraham · Juz 13 · Makki
وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہوں نے اللہ کے لیے برابر والے قرار دئیے تاکہ اس کی راہ سے بھٹکا دیں ، تم فرماؤ: فائدہ اٹھالو پھر بیشک تمہیں آگ کی طرف لوٹنا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اللہ کے لیے برابر والے ٹھہرائے کہ اس کی راہ سے بہکاویں تم فرماؤ کچھ برت لو کہ تمہارا انجام آگ ہے۔
Tafseer (Urdu)
{قل تمتعوا:تم فرماؤ: فائدہ اٹھالو ۔} کفار سے فرمایا گیا کہ اگرچہ تم شرک کے مرتکب ہو لیکن چند دن دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھالو پھر اس کے بعد تمہیں جہنم ہی کی طرف جانا ہے۔ سورہ ابراہیم کی ایت28 تا 30 سے حاصل ہونے والی معلومات: علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ان ایات سے چند باتیں معلوم ہوئیں : (1)… جس طرح شکر نعمت میں اضافے کا سبب ہے اسی طرح ناشکری زوال نعمت کا سبب ہے (اس لئے ہر ایک کو نا شکری سے بچنا چاہئے) (2)…برا ساتھی بندے کو جہنم کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے اور اسے تباہی کے گھر میں اتار دیتا ہے اس لئے ہر مخلص مسلمان کو چاہئے کہ وہ کافروں منافقوں اور بدمذہبوں کی صحبت سے خود کو بچائے تاکہ اس کی طبیعت ان کے برے عقائد و اعمال کی طرف مائل نہ ہو۔ (3)…جہنم شریر لوگوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور اس کی گرمی کی شدت ناقابل بیان ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن جس جہنمی کو سب سے کم عذاب ہوگا اس کے دونوں قدموں پر دو چنگاریاں رکھی جائیں گی جن کی وجہ سے اس کا دماغ اس طرح کھول رہا ہو گا جیسے ہانڈی یا دیگچی میں ابال اتا ہے (بخاری کتاب الرقاق باب صفۃ الجنۃ والنار ۴ / ۲۶۲ الحدیث: ۶۵۶۲)۔ (روح البیان ابراہیم تحت الایۃ: ۳۰ ۴ / ۴۱۸-۴۱۹)