Surah Ibrahim Ayat 45 (14:45)
Abraham · Juz 13 · Makki
وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ 45
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تم ان کے گھروں میں رہے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھااور تمہارے لئے بالکل واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور ہم نے تمہارے لئے مثالیں بیان کیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تم ان کے گھروں میں بسے جنہوں نے اپنا برا کیا تھا اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا اور ہم نے تمہیں مثالیں دے دے کر بتادیا۔
Tafseer (Urdu)
{و سكنتم:اور تم رہے۔} یعنی تم ان لوگوں کے گھروں میں رہے جنہوں نے کفر اور گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا جیسے کہ قوم نوح عاد اور ثمود وغیرہ کہ تم انہی کی بستیوں میں دوران سفر ٹھہرتے تھے یا ان کے قرب و جوارسے گزرتے تھے اور تمہارے لئے بالکل واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور تم نے اپنی آنکھوں سے ان کے گھروں میں عذاب کے آثار اور نشان دیکھے اور تمہیں ان کی ہلاکت و بربادی کی خبریں ملیں یہ سب کچھ دیکھ کر اور جان کر تم نے عبرت کیوں نہ حاصل کی اور تم کفر سے کیوں باز نہ آئے ۔ ہم نے تمہیں مثالیں دے کر بتا دیاتاکہ تم تدبیر کرو اور سمجھو عذاب اور ہلاکت سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔ (خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۴۵ ۳ / ۹۱ مدارک ابراہیم تحت الایۃ: ۴۵ ص۵۷۴ ملتقطا) سابقہ قوموں کے انجام سے نصیحت حاصل کرنے کی ترغیب: ان ایات میں مسلمانوں کے لئے بھی بڑی عبرت ونصیحت ہے اور انہیں بھی چاہئے کہ سابقہ عذاب یافتہ قوموں کے اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور ان کے دنیوی انجام سے عبرت پکڑتے ہوئے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی کرنے سے باز ا جائیں اگر دنیا میں انہوں نے نصیحت حاصل نہ کی اور اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی نافرمانی سے باز نہ ائے تو مرنے کے بعد کوئی نصیحت انہیں فائدہ نہ دے گی۔ حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اے مسلمانو! (غور کرو کہ) انبیاء و مرسلین علیہم الصلوۃ والسلام اور مقرب اولیاء کرام رحمۃاللہ تعالی علیہم کہا ں تشریف لے گئے سابقہ بادشاہ اور جابر و سرکش لوگ کہاں چلے گئے (جب یہ دنیا میں نہ رہے توتم بھی اس دنیا میں نہ رہو گے) تو تمہیں کیاہو گیا ہے کہ تم ان کی طرف نظر نہیں کرتے اور عبرت حاصل نہیں کرتےاگر تم عقل رکھتے ہو تو نیک اعمال میں خوب کوشش کر لواور اس دن سے ڈروجس میں تم اللہ تعالی کی طرف لوٹائے جاو گے پھر ہر جان کو اس کی کمائی بھرپوردی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔ (روح البیان ابراہیم تحت الایۃ: ۴۶ ۴ / ۴۳۶) شرعی قیاس حق ہے: اس ایت سے معلوم ہوا کہ قیاس شرعی حق ہے کیونکہ ایت کا منشا یہ ہے کہ وہ لوگ کفر کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور کفر تو تم بھی کررہے ہو لہذا تم بھی ہلاک ہونے کے لائق ہو علت کے اشتراک سے حکم مشترک ہوتا ہے اور اسی کو فقہ میں قیاس کہتے ہیں ۔