Surah Ibrahim Ayat 46 (14:46)
Abraham · Juz 13 · Makki
وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْؕ- وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ 46
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک انہوں نے اپنی سازش کی اور ان کی سازش اللہ کے قابو میں تھی اور ان کی سازش کوئی ایسی نہیں تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک وہ اپنا سا دانؤں چلے اور ان کا دانؤں اللہ کے قابو میں ہے اور ان کا دانؤں کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و قد مكروا مكرهم:اور بیشک انہوں نے اپنی سازش کی۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اہل مکہ نے اسلام کو مٹانے اور کفر کی تائید کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ سازش کرتے ہوئے یہ ارادہ کیاتھا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو شہید کر دیاجائے یا قید کر لیا جائے یا مکہ مکرمہ سے نکال دیا جائے ۔اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ ان کی سازش اللہ عزوجل کے علم میں تھی اور ان کی سازش کوئی ایسی نہیں تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں یعنی اللہ عزوجل کی آیات اور شریعت مصطفی کے احکام جو اپنی قوت و ثبات میں مضبوط پہاڑوں کی مانند ہیں محال ہے کہ کافروں کے مکر اور ان کی حیلہ انگیزیوں سے وہ اپنی جگہ سے ٹل سکیں ۔(مدارک ابراہیم تحت الایۃ: ۴۶ ص۵۷۴ جلالین ابراہیم تحت الایۃ: ۴۶ ص۲۱۰ ملتقطا) نوٹ:کفار مکہ کی اس سازش کی تفصیل سورہ انفال کی ایت نمبر 30کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ {فلا تحسبن:تو تم ہر گز خیال نہ کرنا۔} ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے!تم ہر گز ایسا خیال نہ کرنا کہ اللہ عزوجل اپنے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام سے کئے ہوئے وعدے کے خلاف کرے گا یہ تو ممکن ہی نہیں وہ ضرور وعدہ پورا کرے گا اور اپنے رسول کی مدد فرمائے گا ان کے دین کو غالب کرے گا اوران کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا۔ (صاوی ابراہیم تحت الایۃ: ۴۷ ۳ / ۱۰۳۱ خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۴۷ ۳ / ۹۱ ملتقطا)