Surah Ibrahim Ayat 7 (14:7)
Abraham · Juz 13 · Makki
وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ 7
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گااور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور یاد کرو جب تمہارے رب نے سنادیا کہ اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب سخت ہے۔
Tafseer (Urdu)
{لىن شكرتم لازیدنكم: اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔} حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم سے فرمایا’’اے بنی اسرائیل! یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان فرمادیا کہ اگر تم اپنی نجات اور دشمن کی ہلاکت کی نعمت پر میرا شکر ادا کرو گے اور ایمان و عمل صالح پر ثابت قدم رہو گے تو میں تمہیں اور زیادہ نعمتیں عطا کروں گا اور اگر تم کفر و معصیت کے ذریعے میری نعمت کی ناشکری کرو گے تو میں تمہیں سخت عذاب دوں گا۔ (روح البیان ابراہیم تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۳۹۹-۴۰۰) شکر کی حقیقت: اس آیت سے معلوم ہوا کہ شکر سے نعمت زیادہ ہوتی ہے۔ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ نعمت دینے والے کی نعمت کا اس کی تعظیم کے ساتھ اعتراف کرے اور نفس کو اس چیز کا عادی بنائے۔ یہاں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ بندہ جب اللہ تعالی کی نعمتوں اور اس کے طرح طرح کے فضل و کرم اور احسان کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے شکر میں مشغول ہوتا ہے اس سے نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بندے کے دل میں اللہ تعالی کی محبت بڑھتی چلی جاتی ہے یہ مقام بہت برتر ہے اور اس سے اعلی مقام یہ ہے کہ نعمت دینے والے کی محبت یہاں تک غالب ہو جائے کہ دل کا نعمتوں کی طرف میلان باقی نہ رہے یہ مقام صدیقوں کا ہے۔ (خازن ابراہیم تحت الایۃ: ۷ ۳ / ۷۵-۷۶) شکر کی فضیلت اور ناشکری کی مذمت: ایت کی مناسبت سے یہاں شکر اورناشکری سے متعلق 4 احادیث بیان کی جاتی ہیں ۔ (1)… حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جسے شکر کرنے کی توفیق ملی وہ نعمت کی زیادتی سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے ’’ لىن شكرتم لازیدنكم‘‘ یعنی اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ جسے توبہ کرنے کی توفیق عطا ہوئی وہ توبہ کی قبولیت سے محروم نہ ہو گا کیونکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے’’و هو الذی یقبل التوبة عن عباده‘‘ یعنی اور وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے ۔ (در منثور ابراہیم تحت الایۃ: ۷ ۵ / ۹) (2)… حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو تھوڑی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ زیادہ نعمتوں کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اور جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالی کابھی شکر ادا نہیں کرتا اوراللہ تعالی کی نعمتوں کو بیان کرنا شکر ہے اور انہیں بیان نہ کرنا ناشکری ہے۔ (شعب الایمان الثانی والستون من شعب الایمان۔۔۔ الخ فصل فی المکافاۃ بالصنائع ۶ / ۵۱۶ الحدیث: ۹۱۱۹) (3)…حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تعالی جب کسی قوم کو نعمت عطا فرماتا ہے تو ان سے شکر ادا کرنے کا مطالبہ فرماتا ہے جب وہ شکر کریں تو اللہ تعالی ان کی نعمت کو زیادہ کرنے پر قادر ہے اور جب وہ نا شکری کریں تو اللہ تعالی ان کو عذاب دینے پر قادر ہے اور وہ ان کی نعمت کو ان پر عذاب بنا دیتا ہے۔ (رسائل ابن ابی دنیا کتاب الشکر للہ عزوجل ۱ / ۴۸۴ الحدیث: ۶۰) (4)…سنن ابو داود میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کو ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنے کی وصیت فرمائی ’’اللہم اعنی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک‘‘ یعنی اے اللہ ! عزوجل تو اپنے ذکر اپنے شکر اور اچھے طریقے سے اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔ (ابو داود کتاب الوتر باب فی الاستغفار ۲ / ۱۲۳ الحدیث: ۱۵۲۲) اللہ تعالی اپنے فضل سے ہمیں کثرت کے ساتھ اپنا ذکر اورشکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اوراپنی نعمتوں کی ناشکری کرنے سے محفوظ فرمائے امین۔([1]) [1] …شکر کے مزید فضائل جاننے کے لئے کتاب’’شکر کے فضائل‘‘( مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں ۔