Surah Al Hijr Ayat 10 (15:10)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِیْ شِیَعِ الْاَوَّلِیْنَ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے تم سے پہلے گزشتہ امتوں میں رسول بھیجے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے تم سے پہلے اگلی امتوں میں رسول بھیجے۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد ارسلنا من قبلك:اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب کفار مکہ نے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جاہلانہ باتیں کیں اور بے ادبی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مجنون کہا تو اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’اپ سے پہلے سابقہ امتوں میں ہم نے رسول بھیجے اور ان لوگوں کے پاس جو بھی رسول آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ کفار کی اپنے انبیاء اور رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ یہ روش سابقہ زمانوں سے چلی ا رہی ہے لہذا اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ بھی دیگر انبیاء ومرسلین علیہم الصلوۃ والسلام کی طرح اپنی قوم کی اذیتوں پر صبر فرمائیں ۔( خازن الحجر تحت الایۃ: ۱۰ ۳ / ۹۶) {كذلك:ایسے ہی۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ جس طرح ہم نے سابقہ امتوں کے دلوں میں کفرتکذیب اور استہزاء داخل کر دیا تھا ایسے ہی مکہ کے مشرکین کے دلوں میں بھی داخل کر دیا ہے۔ (خازن الحجر تحت الایۃ: ۱۲ ۳ / ۹۶) {لا یؤمنون به:وہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔} یعنی وہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یا قرآن پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ پہلے لوگوں کا طریقہ گزر چکا ہے کہ وہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تکذیب کرکے عذاب الہی سے ہلاک ہوتے رہے ہیں یہی حال ان کفار مکہ کا ہے تو انہیں عذاب الہی سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ (خازن الحجر تحت الایۃ: ۱۳ ۳ / ۹۶ جلالین الحجر تحت الایۃ: ۱۳ ص۲۱۱ ملتقطا)