Surah Al Hijr Ayat 9 (15:9)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{انا نحن نزلنا الذكر:بیشک ہم نے اس قران کو نازل کیا ہے۔} اس ایت میں کفار کے اس قول’’اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے‘‘ کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم بے شک ہم نے اپ پر قران نازل کیا ہے اور ہم خود تحریف تبدیلی زیادتی اور کمی سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں ۔‘‘ قران مجید کی حفاظت : یاد رہے کہ تمام جن و انس اور ساری مخلوق میں یہ طاقت نہیں ہے کہ قران کریم میں سے ایک حرف کی کمی بیشی یا تغییر اور تبدیلی کرسکے اور چونکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے یہ خصوصیت صرف قرآن شریف ہی کی ہے دوسری کسی کتاب کو یہ بات میسر نہیں ۔ قران کریم کی یہ حفاظت کئی طرح سے ہے (1)… قرآن کریم کو معجزہ بنایا کہ بشر کا کلام اس میں مل ہی نہ سکے ۔ (2)… اس کو معارضے اور مقابلے سے محفوظ کیا کہ کوئی اس کی مثل کلام بنانے پر قادر نہ ہو۔ (3)… ساری مخلوق کو اسے معدوم کرنے سے عاجز کردیا کہ کفار شدید عداوت کے باوجود اس مقدس کتاب کو معدوم کرنے سے عاجز ہیں ۔ (خازن الحجر تحت الایۃ: ۹ ۳ / ۹۵ تفسیرکبیر الحجر تحت الایۃ: ۹ ۷ / ۱۲۳ ملتقطا) تاریخ شاہد ہے کہ اگر کسی نے قران کے نور کوبجھانے اس میں کمی زیادتی تحریف اور تبدیلی کرنے یا اس کے حروف میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی بھی تو وہ کامیاب نہ سکا۔ قرامطہ کے ملحد اور گمراہ لوگ سینکڑوں سال تک اپنے تمام تر مکر دھوکے اور قوتیں صرف کرنے کے باوجود قران کے نور کو تھوڑا سا بھی بجھانے پر قادر نہ ہو سکے اس کے کلام میں ذرا سی بھی تبدیلی کر سکے نہ ہی اس کے حروف میں سے کسی ایک حرف کے بارے میں مسلمانوں کو شک و شبہ میں ڈال سکے۔ اسی طرح قران مجید کے زمانہ نزول سے لے کر اج تک ہر زمانے میں اہل بیانعلم لسان کے ماہرین ائمہ بلاغت کلام کے شہسوار اور کامل اساتذہ موجود رہے یونہی ہر زمانے میں بکثرت ملحدین اور دین و شریعت کے دشمن ہر وقت قران عظیم کی مخالفت پر تیار رہے مگر ان میں سے کوئی بھی اس مقدس کلام پر اثر انداز نہ ہو سکا اور کوئی ایک بھی قران حکیم جیسا کلام نہ لا سکا اور نہ ہی وہ کسی ایت قرانی پر صحیح اعتراض کر سکا ۔ یہاں قران مجید کی حفاظت سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو چنانچہ حضرت یحیی بن اکثم رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’مامون رشید کی مجلس میں ایک یہودی ایا اور اس نے بڑی نفیس عمدہ اور ادیبانہ گفتگو کی ۔ مامون رشیدنے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے انکار کر دیا۔جب ایک سال بعد دوبارہ ایا تو وہ مسلمان ہو چکا تھا اور اس نے فقہ کے موضوع پر بہت شاندار کلام کیا۔مامون رشید نے اس سے پوچھا’’تمہارے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا ہوااس نے جواب دیا’’جب پچھلے سال میں تمہاری مجلس سے اٹھ کر گیا تو میں نے ان مذاہب کا امتحان لینے کا ارادہ کر لیا چنانچہ میں نے تورات کے تین نسخے لکھے اور ان میں اپنی طرف سے کمی بیشی کر دیا س کے بعدمیں یہودیوں کے معبد میں گیا تو انہوں نے مجھ سے وہ تینوں نسخے خرید لئے۔پھر میں نے انجیل کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی اپنی طرف سے کمی بیشی کر دی۔ جب میں یہ نسخے لے کر عیسائیوں کے گرجے میں گیا تو انہوں نے بھی وہ نسخے خرید لئے۔ پھر میں نے قران پاک کے تین نسخے لکھے اور اس کی عبارت میں بھی کمی بیشی کر دی ۔ جب میں قران پاک کے وہ نسخے لے کر اسلامی کتب خانے میں گیا تو انہوں نے پہلے ا ن نسخوں کا بغور مطالعہ کیا اور جب وہ میری کی ہوئی کمی زیادتی پر مطلع ہوئے تو انہوں نے وہ نسخے مجھے واپس کر دئیے اور خریدنے سے انکار کر دیا۔اس سے میری سمجھ میں ا گیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ اس وجہ سے میں نے اسلام قبول کرلیا۔ (قرطبی الحجر تحت الایۃ: ۹ ۵ / ۶ الجزء العاشر ملخصا)