Surah Al Hijr Ayat 19 (15:19)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْزُوْنٍ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہم نے زمین کو پھیلایا اور ہم نے اس میں لنگر ڈال دئیے اور اس میں ہر چیز ایک معین اندازےسے اگائی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہم نے زمین پھیلائی اور اس میں لنگر ڈالے اور اس میں ہر چیز اندازے سے اگائی۔
Tafseer (Urdu)
{و الارض مددنها:اور ہم نے زمین کو پھیلایا۔} اس سے پہلی ایات میں اللہ تعالی کی وحدانیت کے بیان میں اسمانی دلائل دئیے گئے اور اب یہاں سے زمینی دلائل دئیے جا رہے ہیں چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ہم نے زمین کو پھیلایا اور ہم نے اس میں مضبوط پہاڑوں کے لنگر ڈال دئیے تاکہ وہ زمین والوں کے ساتھ حرکت نہ کرے۔ (تفسیرکبیر الحجر تحت الایۃ: ۱۹ ۷ / ۱۳۰ جلالین الحجر تحت الایۃ: ۱۹ ص۲۱۲ ملتقطا) زمین میں مضبوط لنگر ڈالنے سے متعلق ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ’’و جعلنا فی الارض رواسی ان تمید بهم و جعلنا فیها فجاجا سبلا لعلهم یهتدون‘‘(انبیاء:۳۱) ترجمہ کنزالعرفان: اور زمین میں ہم نے مضبوط لنگر ڈال دئیے تاکہ لوگوں کو لے کر حرکت نہ کرتی رہے اور ہم نے اس میں کشادہ راستے بنائے تاکہ وہ راستہ پالیں ۔ اور اسی ایت کے تحت علامہ اسماعیل حقی رحمۃاللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ’’جب اللہ تعالی نے زمین کو پانی کی سطح پر پھیلایا تو یہ اپنے اوپر موجود چیزوں کے ساتھ ایک طرف ایسے جھک گئی جیسے کشتی جھکتی ہے پھر اللہ تعالی نے اسے مضبوط پہاڑوں کے ذریعے ا س طرح ٹھہرا دیا جیسے کشتی کو لنگر ڈال کر ٹھہرایا جاتا ہے۔ (روح البیان الانبیاء تحت الایۃ: ۳۱ ۵ / ۴۷۲) {و انبتنا فیها من كل شیء موزون:اور اس میں ہر چیز ایک معین اندازے سے اگائی۔} اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے (زمین میں ) ہر چیز لوگوں کی ضروریات کے مطابق اندازے سے پیدا فرمائی کیونکہ اللہ تعالی وہ مقدار جانتا ہے جس کی لوگوں کو ضرورت ہو اور وہ ا س سے نفع حاصل کر سکتے ہوں اس لئے اللہ تعالی نے زمین میں اسی مقدار کے مطابق نباتات پیدا فرمائیں ۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ لفظ ’’ موزون‘‘ حسن اور تناسب سے کنایہ ہے اور ایت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے زمین میں ہر چیز مناسب اگائی عقل سلیم رکھنے والا ہر شخص اسے بہترین اور مصلحت کے مطابق سمجھتا ہے۔ ایت میں مذکور لفظ’’ موزون‘‘ کی اس کے علاوہ اور تفاسیر بھی ہیں ۔ (تفسیرکبیر الحجر تحت الایۃ: ۱۹ ۷ / ۱۳۱-۱۳۲ ملخصا)