Surah Al Hijr Ayat 26 (15:26)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور بیشک ہم نے انسان کوخشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو ایسے سیاہ گارے کی تھی جس سے بُو آتی تھی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک ہم نے آدمی کو بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی۔
Tafseer (Urdu)
{و لقد خلقنا الانسان:اور بیشک ہم نے انسان بنایا۔} اس ایت میں انسان سے مراد حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ۔ اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی پیدائش کی کیفیت کاذکر قران پاک کی متعدد ایات میں مختلف اندازسے کیا گیا ہے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو زمین سے ایک مشت خاک لی پھر اس مٹی کو پانی سے تر کیا یہاں تک کہ وہ سیاہ گارا ہوگئی اور اس میں بو پیدا ہوئی پھر اس سیاہ رنگ اور بو والی مٹی سے انسان کی صورت بنائی جب وہ سوکھ کر خشک ہوگئی تو جس وقت ہوا اس میں سے گزرتی تو وہ بجتی اور اس میں آواز پیدا ہوتی۔ جب سورج کی تپش سے وہ پختہ ہوگئی تو اس میں روح پھونکی اور وہ انسان بن گیا۔ (خازن الحجر تحت الایۃ: ۲۶ ۳ / ۱۰۰-۱۰۱ ملخصا)