Surah Al Hijr Ayat 53 (15:53)
The Rocky Tract · Juz 14 · Makki
قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ 53
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariانہوں نے عرض کیا: آپ نہ ڈریں، بیشک ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanانہوں نے کہا ڈرئیے نہیں ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{انا نبشرك بغلم علیم:بیشک ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔} علم والے لڑکے سے مراد حضرت اسحاق علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ (خازن الحجر تحت الایۃ: ۵۳ ۳ / ۱۰۴) فرشتوں کا علم: اس ایت سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو اللہ تعالی کے بتانے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاں بیٹا پیدا ہو گا اور وہ علم والا اور نبی ہو گا۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں میں سے جسے چاہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے۔ اولاد کو علم دین سکھائیے: اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم بیٹا اللہ تعالی کی بڑی نعمت ہے۔ا س میں ہر مسلمان کے لئے نصیحت ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دین کاعلم بھی سکھائے اور اس علم کو سکھانے میں اس سے زیادہ توجہ دے جتنی دنیا کا علم سکھانے پر توجہ دیتا ہے۔ افسوس فی زمانہ مسلمان دین کا علم حاصل کی ہوئی اولاد جیسی عظیم نعمت کی قدر اور اہمیت کی طرف توجہ نہیں دیتے اور اپنے بیٹوں میں سے جسے ہوشیار و ذہین دیکھتے ہیں اسے دنیا کی تعلیم دلواتے اس کے لئے ماہر اساتذہ اور اونچے درجے کے سکول کا انتخاب کرتے ہیں اور دن رات دنیوی علوم و فنون میں اس کی ترقی کے لئے کوششیں کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں اسے دلوائی گئی دینی تعلیم کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسے ان عقائد کا علم نہیں ہوتا جن پر مسلمان کے دین و ایمان اور اخروی نجات کا دارومدار ہے مسلمان کی اولاد ہونے کے باوجود اسے قران مجید تک صحیح پڑھنا نہیں اتا فرض عبادات سے متعلق بنیادی باتیں نہیں جانتا نماز روزے اورحج زکوۃ کی ادائیگی ٹھیک طرح نہیں کر پاتا اور یہی وجہ ہے کہ صرف دنیوی علوم و فنون میں مہارت رکھنے والے اکثر دین اسلام ہی سے بیزار اور اس کے بنیادی احکام پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے نظر اتے ہیں ۔یہ تو ہوشیار و ذہین بیٹے کے ساتھ طرز عمل ہے جبکہ اس کے برعکس جو بیٹا جسمانی معذوری یا ذہنی کمزوری کا شکار ہو اسے دنیا کی تعلیم دلوانے کی طرف توجہ کرنے اور اس پر اپنا مال خرچ کرنے کو بیکار اور فضول کام سمجھتے ہیں اوراسے کسی دینی مدرسے میں داخل کروا کے اپنے سر سے بوجھ اتار دیتے ہیں ۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو ہدایت نصیب فرمائےامین۔